Kanz e Aza

سب تھم گئے مگر نہ تھما شمرِ بد شیم

A marsiya. Lyrics in Urdu.

جسدم نگینِ خاتمِ پیغمبراں گرا رونق اُٹھی زمیں سے امامِ زماں گِرا گِرنے پہ سب گروہ لئے برچھیاں گرا ہے ہے نہ ان جفاؤں پہ بھی آسماں گرا

زہرا سے پوچھیئے یہ قلق نورِعین کا تپنا زمیں کا اور تڑپنا حسین کا مشتاقِ سیر ذبح بڑھے افسرانِ کیں

قاتل کئی کھڑے ہوئے آکر قریں قریں کوئی پکارا ہاں کوئی بولا ابھی نہیں

اب دیر کیا ہے سجدے میں رکھ لینے دو جبیں

آواز دی عمر نے ہے گردن ڈھلی ہوئی

قاتل پکارا آنکھ ابھی ہے کُھلی ہوئی

سب تھم گئے مگر نہ تھما شمرِ بد شیم

سر پیٹنے کی جا ہے رکھا اُس جگہ قدم

سینہ دبا تو اور بھی تڑپے شۂ اُمم

شورِ فغاں سنا اُسی حالت میں دمبدم

قاتل سے پوچھا دیکھ کدھر غل یہ ہوتا ہے

ہے ہے حسین کہہ کے کوئی رن میں روتا ہے وہ بولا کوئی ہوگا میں دیکھوں بھلا کدھر

اب تیغ پر نگاہ ہے شہ رگ پہ ہے نظر ہاں جب سوار ہونے لگا تھا میں سینہ پر

سیدانی ایک خیمہ سے نکلی تھی ننگے سر اس دم ہماری فوج میں تو عید ہوتی ہے

مجھ کو یقین ہے یہ وہی بی بی روتی ہے

شہ بولے اور کویٔ نہیں یہ بہن بہن

عاشق بہن حسین کی تشنہ دہن بہن

بھولی ہمارے پیار میں ماں کا چلن بہن

بلوہ کہاں کہاں یہ مری خستہ تن بہن

قاتل پکارا آگے بھی باہر یہ آئی تھی

شہ بولے جب سناں علی اکبر نے کھائی تھی

آگے ہے وہ مقام کہ غش ہونگے مومنیں یہ سامنے حسین ہیں وہ زینبِ حزیں گردن پہ تیغ دل میں سناں سینے پر لعیں

زینب یہ حال دیکھتی ہے اور بس نہیں نامحرموں کا دھیان نہ پردے کا ہوش ہے

یہ سب لہو کا جوش ہے اُلفت کا جوش ہے وہ رونا بیکسی کا وہ گھبرانا یاس کا وہ تھر تھرانا دل کا وہ اُڑنا حواس کا کہنا بِلک بِلک کے یہ کلمہ ہراس کا ائے شمر واسطہ علی اصغر کی پیاس کا لِلّه تین روز کے پیاسے کو چھوڑ دئے

صدقہ نبی کا اُن کے نواسے کو چھوڑ دئے تھم جا خدا کو مان حبیبِ خدا کو مان

زہرا کو مان حضرتِ مشکل کشا کو مان

سوگند فقر و فاقۂ آلِ عبا کو مان اپنی رسول زادی کی تو اِلتجا کو مان

سارے بزرگ مر گئے مجھ بد نصیب کے میرا کوئی نہیں ہے سوا اِس غریب کے ائے شمر پاس بھائی کے آؤں جو تو کہے

زخموں سے جلتی ریت چھڑاؤں جو تو کہے

چادر بدن کے نیچے بچھاؤں جو تو کہے

بیکل ہے سر میں آکے اُٹھاؤں جو تو کہے

پانی تو یاں ملے گا نہ زہرا کی جائی کو

آنسو چھڑک کے ہوش میں لاؤں گی بھائی کو ائے شمر میں گلے سے لگالوں تو ذبح کر

بھائی سے مل کے خیمے میں جالوں تو ذبح کر کچھ درد اپنے دل کا سنالوں تو ذبح کر

سید کو قبلہ رو میں لٹالوں تو ذبح کر پانی تو بھوکے پیاسے کو ائے بد خصال دئے ہے وقتِ ذبح آنکھوں پہ کپڑا تو ڈال دئے ائے شمر تجھکو خالقِ اکبر کا واسطہ ائے شمر تجھکو روحِ پیمبر کا واسطہ ائے شمر تجھکو حیدرِ صفدر کا واسطہ ائے شمر تجھکو ننھے سے اصغر کا واسطہ لِلّه کر نہ ذبح شۂ مشرقین کو میں بھیک مانگتی ہوں مجھے دئے حسین کو یہ کہتے کہتے سُست ہوئی دم اُلٹ گیا

سر پیٹتی یہ رہ گئی سر شہ کا کٹ گیا

یوں لاش پر گری کہ جگر سب کا پھٹ گیا

باہیں گلے میں ڈال کے لاشہ لپٹ گیا ماں کی طرح تھی عاشقِ شاہ زمن بہن یہ بھائی بھائی کہتی تھی لاشہ بہن بہن