عزیز و زینبِ مضطر کا آج ماتم ہے
عزیز و زینبِ حیدر کا آج ماتم ہے
علی کی لاڈلی دُختر کا آج ماتم ہے
غریب شاہ کی خواہر کا آج ماتم ہے
سکونِ قلب خدا کے حبیب کو دیجے
بہن کا پُرسہ حسینِ غریب کو دیجے
دوبارہ قید ہوئے جب کہ سیدِ سجاد اسیر کرتے ہوئے شام لے چلے جلاد روانہ ساتھ ہوئی ہائے زینبِ ناشاد نبی کے روضۂ اقدس پہ جاکے کی فریاد
شہید ہو گیا بھائی حسین ائے نانا مگر نہیں ہے لعینوں کو چین ائے نانا پھر آج عابدِ بے پر کے ساتھ جاتی ہوں یزیدِ نحس کو خوفِ خدا دِلاتی ہوں
خدا نے چاہا تو اس لال کو چھڑاتی ہوں
حیات باقی اگر ہے تو واپس آتی ہوں
جو آئے راہ میں موت آپ آئیے نانا ہماری لاش پہ آنسو بہائیے نانا
یہ سُن کے اُٹھ کے گئی فاطمہ کے روضہ پر لپٹ کے قبر سے کہنے لگی یہ خستہ جگر اُٹھو اُٹھو مری اماں کہ آئی ہے دختر اسیر ہو گیا پھر میرا عابدِ مضطر تمام گھر کو اُجاڑا مگر نہ چین آیا
دوبارہ سیدِ سجاد پر ستم ڈھایا پھرا چکے تھے ستمگار در بدر اماں
دکھایا نیزے پہ بھائی کا مجھکو سر اماں مدینہ بھیجا تھا گھر بار لوٹ کر اماں پھر آج ہوتا ہے ویران سارا گھر اماں
چلے ہیں قید میں پھر زین العابدیں ہے ہے رہے گی چین سے کیا زینبِ حزیں ہے ہے
صدائے نوحۂ زہرا لحد سے آنے لگی کسی نبی نے بھی ایسی جفا نہیں دیکھی نثار ماں تیری مظلومیت کے ائے بیٹی تڑپ رہی ہوں میں اے میرے درد کی ماری میں ساتھ چلتی ہوں ائے جانِ زینبِ مضطر نہ بِلبلا تیرے قربان زینبِ مضطر
سُنا جواب ترا ہائے اشکبار ہوئی
قرار آتا نہ تھا اور بے قرار ہوئی
بدن لرزتا تھا ناقہ پہ جب سوار ہوئی ہزار ضبط سے رُخصت جگر فگار ہوئی پکاری جاتی ہوں رُخصت کرو خدا حافظ ملوں گی راہ میں کس جا کہو خدا حافظ روانہ ہوگئی پھر سوئے شام واویلا
خموش روتے تھے چوتھے امام واویلا لعیں روانہ ہوئے تیز گام واویلا
عزیز کرتے تھے ماتم تمام واویلا لکھا ہے راہ میں اک منزلِ قریب آئی
بتول زادی کی ہے ہے قضا قریب آئی نظر خوزادی کی ناگاہ اُس شجر پہ پڑی کہ اس پہ دیکھا تھا فرقِ حسین ابنِ علی تڑپ کے ہائے حسینا کہا زمیں پہ گری
اُٹھیں سنبھل کے تو فریاد اس شجر سے یہ کی کہاں ہے بھائی میرا ائے شجر بتا جلدی
حسین کیلئے روتی ہوں خاک اُڑا تو بھی کلیجہ آگیا منھ کو تڑپ رہا تھا جگر
زیارتِ شہ کرب وبلا پڑھی روکر نماز پڑھنے لگی پھر قریب زیرِ شجر ابھی اُٹھایا نہ تھا ہائے ہائے سجدہ سے سر
ستم سے بیلچہ ابنِ تمیم نے مارا لہو مصلے پر بیکس کا بہہ گیا سارا
علی کی طرح سے زینب کا سر دو نیم ہوا
زمیں لرز گئی عرشِ عظیم کانپ اُٹھا
سنی زمانے نے فریاد سید الشہدا پکارنے لگی آکر مزار سے زہرا
غریب سوگ نشیں بے خطا کو قتل کیا
شقی نے دخترِ مشکلکشا کو قتل کیا لہو کے اشک بہاتے ہیں عابدِ بے پر کفن پھوپی کو پنہاتے ہیں عابدِ بے پر
قلق سے جان گنواتے ہیں عابدِ بے پر لحد پھوپی کی بناتے ہیں عابد بے پر نگیں ہے عرش پہ غم فاطمہ کی بیٹی کا
جنازہ اٹھتا ہے مشکلکشا کی بیٹی کا