Kanz e Aza

قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے

A marsiya. Lyrics in Urdu.

قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے

دُخترِ فاطمہ غیرت سے موئی جاتی ہے روح قالب میں وہ زندان میں گھبراتی ہے

بے حواسی سے ہر اک بار وہ چلاتی ہے

آسماں دور زمیں سخت کدھر جاؤں میں

بی بیو مل کے دعا مانگو کہ مرجاؤں میں کیا کروں کیا نہ کروں جلد بتاؤ لوگو

صدقہ اکبر کا حقارت سے بچاؤ لوگو اوٹ کر کے ہو کھڑے مجھ کو چھپاؤ لوگو یا کسی گوشہ میں لیجا کے بٹھاؤ لوگو

سر کھلی ہوں کسی حجرے میں مجھے بند کرو ہند آتی ہے مجھے خاک کا پیوند کرو کس طرح ہند کے آنے سے نہ گھبراؤں میں

بنتِ حیدر ہوں نہ کیوں قید میں شرماؤں میں کوئی دیوار جو شق ہو تو سما جاؤں میں

سیدھے مانجائے کے مقتل کو چلی جاؤں میں کربلا میں نہ یہ ذلت ہے نہ رُسوائی ہے

بے ردا میں ہوں تو بے گور میرا بھائی ہے

نا گہاں فضہ نے دی اہلِ حرم کو یہ خبر ہند آتی ہے بڑئے جاہ و تجمل سے اِدھر

بیرقیں نقره و زر کی ہیں جُلو کے اندر

سب کنیزیں تو رِدا اوڑھی ہیں وہ ننگے سر پر سواری بہت آہستہ رواں ہوتی ہے ہر قدم ہند ٹہر جاتی ہے اور روتی ہے کہتی ہے قیدیوں کے شورِ بکا نے مارا مجھ کو اِس ہائے حسینا کی صدا نے مارا اِن کے سردار کو کس اہلِ جفا نے مارا کیا وہ سید تھا جسے اہلِ دغا نے مارا ایک بجلی سی کلیجے پہ مرے گرتی ہے ننگے سر فاطمہ آنکھوں کے تلے پھرتی ہے ہو گیا ذبح کوئی خاصۂ باری لوگو

اِنس و جن حور و ملک کرتے ہیں زاری لوگو لے چلو سوئے نجف میری سواری لوگو ہوگی مشکل وہیں آسان ہماری لوگو

خیر سے ہیں میرے آقا تو وہ سوتے ہونگے ورنہ مرقد میں علی بیٹے کو روتے ہونگے لونڈیاں تھیں زنِ حاکم کی جُلو میں جو رواں

دیکھتی کیا ہیں کہ ایک شیر ہے آہن میں نہاں

لاغر و خستہ تن و فاقہ کش و تشنہ دہاں

منھ پہ سیلی کے نشاں پشت پر دروں کے نشاں

ساقِ پا فاقہ سے زنجیر میں تھراتی ہے استخوانوں سے لرزنے کی صدا آتی ہے

سب نے منھ کر کے سوئے ہند یہ کی نوحہ گری

دیکھئے شام کے زنداں میں چراغِ سحری

یادِ خالق میں جو ہے خلق سے ہے بے خبری کیوں مسلسل کیا یہ تو ہے عدم کا سفری

کس نے دم بند کیا طوقِ جفا سے اِس کا

سلسلہ ملتا ہے کچھ شیرِ خدا سے اس کا گرد عابد کے پھری ہند بہ حالِ تغیر رکھ دیا پاؤں پہ سر اپنا ہٹا کر زنجیر

بولے وہ کون ہے بولی کہ کنیزِ شبیر السلام ائے رسن و طوق و سلاسل کے اسیر ہے وصیت کا محل مرنے پہ تیار ہے تو

کچھ کفن کے لئے رکھتا ہے کہ نادار ہے تو

غم نہ کھا گور و کفن میں تجھے دونگی للّہ ننگے سر تیرے جنازے کے چلونگی ہمراہ

مرنے والے ترا کیا نام ہے کب سے ہے تباہ

بولے مولا ابھی چالیس برس جینا ہے آہ

نام بیکس بھی ہے قیدی بھی ہے نادار بھی ہے

حال یہ ہے کہ اسیری بھی ہے آزاد بھی ہے ہند نے پوچھا مرض کیا ہے کہا بے پدری

رو کے وہ بولی دوا کیا ہے کہا نوحہ گری گھر جو دریافت کیا کہنے لگے در بدری

بولی لیتا ہے خبر کون کہا بے خبری

آہ کرنے کا سبب پوچھا تو شرمانے لگے تازیانوں کے نشاں پشت پہ دکھلانے لگے