Kanz e Aza

لومومنو خلاصہ سُنو اِس بیان کا

A marsiya. Lyrics in Urdu.

لومومنو خلاصہ سُنو اِس بیان کا

بانو کو پرسہ دو چھ مہینے کی جان کا پر حال کس زباں سے کہوں بے زبان کا کیوں گر پڑا نہ پھٹ کے طبق آسمان کا

جھولے میں دی پناہ نے ماں کے کنار میں کاٹی عدو نے گردنِ اصفر مزار میں لپٹے ہوئے عزیزوں کے لاشوں سے تھے حرم

جو آہ سر شہیدوں کے ہونے لگے قلم


گن گن کے خود عمر نے کئے نیزوں پر علم

بولا ملازموں سے ابھی ایک سر ہے کم اِس دم مجھے خیالِ عتابِ یزید ہے


عرضی میں لکھ چکا ہوں بہتر شہید ہے پیٹینگے اس بیان سے سب کودک و جواں یہ تازہ واقعہ ہے غضب کی ہے داستاں کیوں خشک ہوگئی نہ ستمگار کی زباں

بولا عمر تلاش کرو قبر کا نشاں

بچے کی قبر کھود کے سر کو قلم کرو اکبر کے سر کے پاس سناں پر علم کرو

بعضے لرز لرز کے پکارے کہ الحذر


ہم تو نہ قبر کھودیں گے ظالم خدا سے ڈر

اِس بے زباں شہید کے سن پر تو رحم کر


سوتا ہے ساری رات کا جاگا لہو میں تر

دیکھیں نہ چین جھولے کے نہ ماں کی گود کے

بچے کا سر نہ کاٹیں گے ہم قبر کھود کے کیا اسکی قبر سے تجھے دعویٰ ہے اے لعیں

حضرت نے مول لی تھی یہ مقتل کی سر زمیں


بے دفن ہے مع رفقا بادشاہِ دیں

بے گھر ہیں اہلبیتِ شہنشاہِ مرسلیں مردوں کو گور زندوں کی خاطر مکاں نہیں اک بچہ قبر میں ہے اُسے بھی اماں نہیں روتے تھے لاش ہائے شہیداں پہ سب حرم کیا دیکھتے ہیں آتا ہے اک بانیٔ ستم نوکِ سناں چھبوتا ہے مٹی میں دم بدم


فضہ پکاری خیر کرے رب ذوالکرم یہ قبر ڈھونڈتا ہے کسی نازنین کی نیزے سے دیکھتا ہے یہ نرمی زمین کی

بانو نے پوچھا دیدۂ دل سے بہا کے خوں

ِجویا ہے کس کی قبر کا یہ ظالم زبوں

فضہ پکاری خاک مرے منھ میں کیا کہوں میں کسی زباں سے صاحبِ تربت کا نام لوں کھو دے گا مقبرہ چھ مہینے کی جان کا مانگا ہے ابنِ سعد نے سر بے زبان کا پیکان جس گلے سے ابھی ہو چکا ہے پار ہے ہے اُسی گلے پہ پھریگی چھری کی دھار


آرام گاہ مردوں کا ہے گوشۂ مزار

بی بی کے لختِ دل کو وہاں بھی نہیں قرار نے فاتحہ نہ پھول کسی نورِعین کے ہوتے ہیں ذبح قبر میں بچے حسین کے