مومنو آج خراساں میں ہے تازہ ماتم
تھر تھراتے ہیں فلک عرش و زمیں لوح و قلم
آتے ہیں آلِ عبا خاک اُڑاتے باہم
عابد و باقر و جعفر و جنابِ کاظم منھ کو حضرات یہ سب آنسوؤں سے دھوتے ہیں
جمع میت کے اُٹھانے کے لئے ہوتے ہیں
کیا کِیا قہر کہ بے جرم و خطا کو مارا
دلبرِ فاطمہ و شیرِ خدا کو مارا
زہر دلوا کے غریبُ الغرباء کو مارا
آج مامون نے مظلوم رضا کو مارا
خاک میں مل گیا اک اور گلِ باغِ زہرا گل ہوا آج خراساں میں چراغِ زہرا اِس طرح واقعہ ہے آج کا راوی نے لکھا ابنِ ہارون نے حضرت کو جونہی بلوایا
آئے دربار میں جس وقت امامِ دوسرا تخت پر اپنے قریں شاہ کو بھی بٹھلایا پھر کہا شاہ سے فرمائیے تو پیش کروں
آپ کے واسطے انگور میں لے رکھا ہوں کہا مظلوم نے مجھ کو نہیں انگور کی چاہ کس لئے سامنے ہے طشت جو تو نے رکھا کِیا اصرار جو اُس نے تو امامِ زیجاہ کھا کے انگور کو کہنے لگے اِنا لِلّہ پوچھا مامون نے کیا بات ہے فرمائیے گا
سر جھکا کر کہا مسموم نے معلوم ہوا کھا کے انگورِ دغا آئے ہیں گھر کو اپنے
قئے کئے جاتے ہیں پکڑے ہوئے سر کو اپنے
درد ہوتا ہے دباتے ہیں جگر کو اپنے یاد فرماتے ہیں ہمشیر و پسر کو اپنے
سید و بیکس و مظلوم غریبُ الغرباء مضطرب حال ہیں مسموم غریبُ الغرباء موت کا آگیا چہرے پہ پسینہ یارو
غش میں ہے وارثِ سلطانِ مدینہ یارو
آٹھواں مُہرِ نبوت کا نگینہ یارو
خاک میں ملتا ہے احمد کا خزینہ یارو
در و دیوار کو حسرت سے رضا دیکھتے ہیں اور اُنہیں یاس سے سب آلِ عبا دیکھتے ہیں پیٹتی ہے کبھی سر کو کبھی تھراتی ہے
فاطمہ اس طرح رونے کیلئے آتی ہے
جانبِ عرش علا روحِ رضا جاتی ہے
بیکسی لاش پہ رو رو کے یہ چلاتی ہے موت کی ہچکیاں اب لیتا ہے دلبر اُس کا
چار حمال اُٹھائے تھے جنازہ جس کا
ِسچ ہے غربت کی عجب موت ہے ائے اہل عزا
نہ کوںٔی مونس و یاور نہ دوا ہے نہ غذا
بسترِ مرگ پہ تھے آپ توکل بخدا نہ کوئی پانی پلانے کو دمِ آخر تھا وہی بیکس ہے رضا نزع میں اِناللّٰہ ہائے کیا وقت ہے مظلوم پہ اللّٰہ اللّٰہ
خاک کا فرش رِدا گرد توکل تکیہ اُف بھی کرتا نہیں خاموش ہے سونے والا نزع میں دیکھی رضا نے جو شبیہہ زہرا
بند آنکھیں ہوئیں اور خاتمہ بالخیر ہوا
ایک ہچکی کا بس آنا تھا کہ دم توڑ گئے مومنیں کیلئے یاد اپنی رضا چھوڑ گئے
آکے یثرب سے تقی دیکھتے ہیں کیا نقشہ بند آنکھیں کئے بیہوش پڑے ہیں بابا
سر کو بابا کے اُٹھا زانو پہ اپنے رکھا رو کے چلانے لگے کیا یہ ہوا ہے ابتا کب سے چلاتا ہے سر پیٹ کے نالان تقی
آنکھوں کو کھولو ذرا آپ کے قربان تقی
باپ کا پرسہ دو بیٹے کو تم ائے اہلِ عزا
جسکو مامون نے کھلوایا ہے انگورِ دغا نیلگوں ہو گیا ہے جسمِ مبارک جس کا
جس کی میت پہ نہیں کوئی بھی رونے والا
بے پدر ہو گئے معصوم تقی واویلا ہائے بے جاں ہوا کاظم کا وصی واویلا