جب زائرانِ شاہِ غریبُ الوطن پھرئے یعنی سوئے وطن حرمِ پنجتن پھرئے اک دست تحفہ لے کے نشانِ رسن پھرئے
غل تھا کہ اہلبیتِ حسین و حسن پھرئے
ستر دو تن کو زیرِ زمیں سونپے آئے ہیں کچھ صُرّے خاکِ پاک کے ہمراہ لائے ہیں اسباب سب لٹا ہوا خیمہ جلا ہوا اور زینِ ذوالجناح لہو سے بھرا ہوا منہ پر غبارِ گنجِ شہیداں لگا ہوا
دامان ماتمی کفنی کا پھٹا ہوا
بچے بھی کوزے پانی کے ہاتھوں میں لیتے ہیں پیتے نہیں ہیں فاتحہ اصغر کا دیتے ہیں ناگاه گزار قافلہ کا شہر میں ہوا اور لشکرِ بشیر میں نقارہ بھی بجا
آوازِ تیز گامیٔ اسپاں ہوئی بپا ہمسائیوں کو فاطمہ صغرا نے دی صدا لوگو سواری آتی ہے کس بادشاہ کی
سب نے کہا کے سبطِ رسالت پناہ کی اتنے میں اُمِ ہانیہ اُس دم فلک وقار
سر پر قصابہ پاؤں میں موزے بھی آشکار اُم البنین کے ساتھ وہاں آئی ایک بار
صغرا سے پوچھا اب تو نہ ہوگا تمھیں بخار
غل ہے کہ زینب آتی ہے شبیر آتے ہیں
چلتی ہو تم بھی ہم تو اُنہیں لینے جاتے ہیں وہ بولی پیشوائی کو موجود ہوں مگر ہے قصد چُپ رہوں کسی گوشہ میں بیٹھ کر اکبر تلاش میں پھریں آواز دیں پدر اصغر بھی گھٹنیوں مجھے ڈھونڈ ھے اِدھر اُدھر
جب سب کہیں کہ مرگئی چھٹتے ہی آپ سے ہنستی ہوئی میں آکے لپٹ جاؤں باپ سے اک مرتبہ سروں پہ پڑے مردوزن کے ہاتھ
جانا سبھوں نے قتل ہو ئے شاہِ نیک ذات
صفرا نے پوچھا دادی یہ کیسی ہے واردات
یہ فوج تو گئی تھی نہ میرے پدر کے ساتھ ہے ہے مسافروں پہ میرے کیا گزر گئی پوچھو تو اِن سے فوجِ حسینی کدھر گئی
آخر نہ رہ سکی سوئے لشکر یہ دی ندا تم کربلا میں تازہ ملازم ہوئے ہو کیا اکبر کے پائے نام ہے تم لوگوں کا پَرا
بارے کہو گروهِ حسینی کہاں رہا
بتلاؤ مومنو ہوں میں پیاری حسین کی اب کتنی دور ہوگی سواری حسین کی ناگاہ آیا سیدوں کا غول ننگے سر
دامان سبز کرتوں کے تھے چاک سر بسر
آگے علم لئے ہوئے اک طفلِ بے پدر ماتم کے نیل چاند سے سینہ پہ جلوہ گر مشکیزۂ سکینہ علم میں بندھا ہوا اک تیر اُس میں بہرِ گواہی لگا ہوا
زیرِ نشان پڑھتے تھے نوحہ ہر اک قدم ماتم حسین پیاسے کا کرتے تھے دمبدم
غم سے لرزنے لگتا تھا جب پنجۂ علم
بڑھتے تھے آگے صاحبِ ماتم بچشمِ نم
فارغ جو ماتمِ شہ والا سے ہوتے تھے پھر کہہ کے ہائے حضرتِ عباس روتے تھے اُم البنیں نے نام جو عباس کا سُنا
آنکھوں سے نور سینہ سے دل ہو گیا جدا
صغرا کو اُم سلمٰی کی آغوش میں دیا
بولی میں بڑھ کے پوچھوں تو یہ ماجرا ہے کیا اَغلب ہے اِن سے سبطِ نبی کی خبر ملے کس کے یتیم آتے ہیں پا ننگے سر کھلے یہ کہہ کے چند گام بڑھی وہ بصد بکا کاندھے پہ جس یتیم کے تھا وہ علم دھرا
حیرت سے اُس غریب کا منھ دیکھا خوب سا
بینائی جا چکی تھی نہ پہچانا مطلقا پوچھا کے یہ نشان تجھے کب عطا ہوا ائے حاملِ علم میرا عباس کیا ہوا