Kanz e Aza

جب شاہ کو سفر میں بہت دن گزر گئے

A marsiya. Lyrics in Urdu.

جب شاہ کو سفر میں بہت دن گزر گئے

صغرا کو غم ہوا کہ مسافر کدھر گئے کہتی تھی گھر بھرا ہوا ویران کر گںٔے کیا جانے کس طرف میرے بیکس پدر گئے ہے شوق دل میں سبطِ پیمبر کی دید کا کیا وجہہ ہے کہ خط نہیں آیا رسید کا پردیسیوں کے غم میں ہے جینے سے مجھکو یاس

بستر پہ منھ لپیٹے پڑی رہتی ہوں اُداس

بابا سفر سے آئیں گے جب تک نہ میرے پاس تب تک بدن سے میں نہ اُتارونگی یہ لباس

جیتی رہی تو وصلِ امام زمن ہوا اور مرگئی تو بس یہی کرتا کفن ہوا

آتی نہیں ہے کچھ خبرِ سیدالانام

صغرا نہ روؤ ہم تمھیں جلدی بلا ئینگے

دیکھو نہ خط ہی آیا نہ اکبر وہاں سے آئے کچھ حادثہ پڑا شہ دیں پر سفر میں ہائے

کس سے کہوں جو سبطِ نبی کی خبر کو جائے اللّٰہ میرے باپ کو جلدی وطن میں لائے

سنتی ہوں دوست کم ہیں شہ مشرقین کے

دشمن بہت ہیں فاطمہ کے نورِ عین کے مانگو دعا کہ سبطِ پیمبر کی خیر ہو

عباس و قاسم و علی اکبر کی خیر ہو

بہنوں کی خیر ہو میری مادر کی خیر ہو گرمی کا ہے سفر علی اصغر کی خیر ہو اماں کو اُنکا دودھ بڑھانا نصیب ہو پھر گھر میں لیکے خیر سے آنا نصیب ہو

یہ کہہ کے منھ کو ڈھانپ کے روئی وہ نوحہ گر کُرتا تمام ہونے لگا آنسوؤں سے تر نانی دِلاسہ دینے لگی پاس آن کر

قربان جاؤں روتی ہو کیوں دھیان ہے کدھر ویراں کریں گے شہر کو جنگل بسائینگے اب کیا خدانخواستہ حضرت نہ آئینگے

چرچہ ہوا یہ شہرِ مدینہ میں جابجا

صغرا سے آکے مادرِ عباس نے کہا

زانو پہ سر جھکائے ہوئے رو رہی ہو کیا

شبیر آئے شکر کا سجدہ کرو ادا نا کہ پہ فوج ٹہری ہے واری حسین کی

آتی ہے کوئی دم میں سواری حسین کی

نانی نے تب یہ اُس سے کہا ہو کے شادشاد

صغرا تمہیں نہ تھا میرۓ کہنے کا اعتماد

میں کہتی تھی کہ آتے ہیں اب شاہ خوش نہاد

پوری خدا نے کی جو میرے دل کی تھی مراد

دیکھوگی آج باپ کو مادر کو بھائی کو لو کپڑے اب بدل لو چلو پیشوائی کو

وہ بولی میرے دل میں ہے کچھ اور ہی خیال

جب تک نہ گھر میں آئیگا خیرالنسا کا لال

کپڑے نہ بدلوں گی نہ میں گوندھونگی سر کے بال

آنے دو اُنکو جن کے لئے ہے یہ میرا حال

شکوئے کرونگی آنکھوں سے آنسو بہاؤگی

بابا کو یہ پھٹا ہوا کُرتا دکھاؤگی کہہ کر یہ بات گھر سے چلی دخترِ امام نانی بھی ساتھ ہوگئی جلدی عصا کو تھام

دیکھا ہر اک طرف کو ہے خلقت کا اِژدھام کہنے لگی یہ مادرِ عباسِ نیک نام مجھکو تو ہے یقین کے اب گھر نہ آئینگے

شبیر پہلے قبرِ پیمبر پہ جائینگے یہ کہہ کے گود میں لیا بیمار کو اُٹھا اور رُخ کیا سوئے لحدِ پاکِ مصطفٰے نزدیک جب گئے تو یہ غل یک بیک ہوا

آیا ہے بے حسین کے بیمارِ کربلا ماتم کرؤ حبیبِ خدا کے حبیب کا

سرکٹ گیا بدن سے حسینِ غریب کا ائے ساکنانِِ شہرِ مدینہ اُڑاؤ خاک کر ڈالو آہ اپنے گریبان چاک چاک

شبیر تین روز کا پیاسا ہوا ہلاک

چالیسویں تلک رہا بے گور جسمِ پاک پاؤ گے پھر نہ فاطمہ کے نورِ عین کو ہم کربلا میں دفن کر آئے حسین کو