Kanz e Aza

جب نوجواں پسر شۂ دیں سے جُدا ہوا

A marsiya. Lyrics in Urdu.

جب نوجواں پسر شۂ دیں سے جُدا ہوا روشن قمر سپہرِ بریں سے جُدا ہوا نورِ نظر امامِ مُبیں سے جُدا ہوا لختِ جگر حسینِ حَسیں سے جُدا ہوا

دل داغ ہو گیا دل و جانِ بتول کا گھر بے چراغ ہو گیا سبطِ رسول کا

برچھی سے ٹکڑے ہوگیا لختِ جگر کا دل

خود باپ نے چِھدا ہوا دیکھا پسر کا دل ہوتا ہے آب گینہ سے نازک بشر کا دل

پتھر کا دل نہیں ہے یہ دل ہے پدر کا دل

ایوب بھی اگر ہوں تو دم بھر نہ کل پڑے

آنسو تھمیں تو منہ سے کلیجہ نکل پڑے پیری میں آفتِ غمِ اولاد الاماں

دل اور زخمِ خنجرِ فولاد الاماں وہ اِضطرابِ خاطرِ ناشاد الاماں وہ اشکِ سوز اور وہ فریاد الاماں

بیٹا نہ ہو تو زیست کا پھر کیا مزا رہا

جب گھر اُجڑ گیا تو زمانے میں کیا رہا

بچھڑا وہ لال جس کا گوارا نہ تھا فراق

فرماتے تھے کہ لوٹ لیا تو نے ائے عراق

ائے موت جلد آ کہ بس اب زندگی ہے شاق

خنجر کی آرزو ہے شہادت کا اشتیاق

برباد اس طرح کوئی آباد گھر نہ ہو کیا زندگی کا لطف جب اپنا پسر نہ ہو پیارے نہ تھے حسین علیہ السلام کے لائی حرم سرا میں بہن ہاتھ تھام کے تھرا رہے تھے پاؤں شہ تشنہ کام کے

سردوش پر تھا زینبِ عالی مقام کے

فرماتے تھے بہن علی اکبر گُذر گئے

ہم ایسے سخت جاں تھے کہ اب تک نہ مرگئے پُرسہ تمھیں شہید کا دینے کو آئے ہیں کِس کِس کے داغ آج جگر پر اُٹھائے ہیں پیٹے ہیں خاک اُڑائے ہیں آنسو بہائے ہیں یہ ہم تمھارے لال کے خوں میں نہائے ہیں

سر تھا حسینِ بیکس و تنہا کی گود میں

بیٹے کی جان نکلی ہے بابا کی گود میں یہ سُن کے بیبیوں کے جگر پر چُھری چلی

زینب زمیں پہ گر کے پکاری کہ یا علی

سِرِخفی جہاں کے ہیں سب آپ پر جلی

جاتا ہے سرکشوں میں یہ کونین کا ولی

بیکس کو آسرا ہے پسر کا نہ بھائی کا

بابا یہی تو وقت ہے مُشکلکشائی کا یا مصطفیٰ بَلا میں پھنسا ہے تمہارا لال یا شیرِ ذوالجلال دِکھاؤ انہیں جلال یا فاطمہ میں لُٹتی ہوں بکھراؤ سر کے بال

يا رب اُلٹ دے آج یہ سب عرصۂ قتال

پھر کیا کسی سے کام ہے سب سے جُدا رہوں

بھائی کو اپنے لیکے میں جنگل میں جا رہوں

فرمایا شہ نے صبر بہن چاہیے تمھیں

خالق کی یاد سِر و علن چاہیے تمھیں لب پر رضا رضا کا سخن چاہیے تھیں

جو ماں کا تھا چلن وہ چلن چاہیے تمھیں اب آخری بہن یہ سواری ہماری ہے

بعد ان بزرگواروں کے باری ہماری ہے

دیکھا یہ کہہ کے بالی سکینہ کو یاس سے لِپٹی وہ دوڑ کر شۂ گردوں اَساس سے

بولی وہ تشنہ کام شۂ حق شناس سے

کیا اِس بلا کے بن سے تہیہ سفر کا ہے

صدقے گئی بتاؤ اِرادہ کدھر کا ہے

فرمایا شہ نے ہاں سفرِ ناگزیر ہے

آؤ گلے لگو کہ یہ صحبت اَخیر ہے اب آرزوئے قُربِ خدائے قدیر ہے تنہا ہے ہم سپاہ مخالف کثیر ہے

طئے ہو یہ مرحلہ جو اِعانت خدا کرئے

جس کا نہ کوئی دوست ہو بی بی وہ کیا کرئے

جانا ہے دور شب کو جو آنا نہ ہو اِدھر

ضد کر کے روئیو نہ ہمیں چاہتی ہو گر پہلے پہل ہے آج شبِ فُرقتِ پدر

سورہیو ماں کی چھاتی پہ غربت سے رکھ کے سر راحت کے دن گزر گئے یہ فصل اور ہے اب یوں بسر کرو جو یتیموں کا طور ہے ننھے سے ہاتھ جوڑ کے بولی وہ تشنہ کام

بتلائیے مجھے کہ یتیمی ہے کس کا نام

آنکھوں سے خوں بہا کہ یہ کہنے لگے امام

کھل جائیگا یہ درد و الم تم پہ تا بہ شام

بی بی نہ پوچھو کچھ یہ مصیبت عظیم ہے مرجائے جس کا باپ وہ بچہ یتیم ہے