Kanz e Aza

نرغہ ہوا حسین پہ جو فوجِ شام کا

A marsiya. Lyrics in Urdu.

کِس کی زباں سے پیاس نے پائی ہے آبرو کِس تشنہ لب کے حصہ میں آئی ہے آبرو ایمان کس کی خاک پہ لائی ہے آبرو

آنسو کی کس کے غم نے بڑھائی ہے آبرو کس پیاسے کے قلق میں ہمیں شوروشین ہے پوچھا جو نام پیاس پکاری حسین ہے

دریا پہ ابنِ فاطمہ کو لے گئی ہے پیاس

چُلو بھرا تھا پانی سے لائے جو منہ کے پاس

ہے ہے حصین نے کیا مہماں کا کچھ نہ پاس مارا دہن پہ تیر بھرا خون سے لباس

دریا سے نکلے پیاس کا غم ٹالتے ہوئے مقتل میں آئے منہ سے لہو ڈالتے ہوئے

زینب پکاری ہائے چِھدا تیر سے دہن کیا پانی نوش کرتے تھے اے سرورِ زمن

ہاتھوں کو منہ پہ رکھ کے کیا شہ نے یہ سخن

ظالم کو تیر مارنا تھا مارا اے بہن

بھائی کی پیاس یاد تھی لب تر کیا نہ تھا

چُلو میں ہم نے پانی لیا تھا پیا نہ تھا نرغہ ہوا حسین پہ جو فوجِ شام کا تیروں سے جسم چھن گیا شاہِ انام کا

چِلّایا نام لے کے عمر خاص و عام کا ائے مرحبا یہ حملہ کیا تو نے کام کا ہاں میرے رُستموں نہ اماں دو حسین کو نوکوں پہ برچھیوں کی اُٹھالو حسین کو

طاقت ہوئی جو طاق شۂ دیں پناہ کی

حسرت سے سوئے گنجِ شہیداں نگاہ کی راکب کو ذوالجناح نے دیکھا اور آہ کی روکر حسین بولے جو مرضی الہ کی

درد و الم کی کس سے طلب داد کیجئے

بولا وہ بے زبان کچھ اِرشاد کیجئے

شفقت سے ہاتھ گھوڑے کی گردن میں ڈالکر

بولے ہمیں کچھ آنکھوں سے آتا نہیں نظر گھوڑے تو چل کے گنجِ شہیداں میں غور کر

آرام کرتے ہیں علی اکبر میرے کدھر ائے اسپِ باوفا میرے دل کو قرار دئے

عاشق کو چل کے اُن کے برابر اُتار دئے گھوڑا قدم قدم سوئے مقتل ہوا رواں یعنی نہ شہ کے جسم کو ہو صدمۂ تکاں اک نوجواں کی لاش پہ ٹہرا وہ ناگہاں

بو سونگھ کر حسین پکارے یہی ہے ہاں

بیٹھا جو ذوالجناح کہ آپ اُترے زین سے

دو ہاتھ کانپتے ہوئے نکلے زمین سے ہاتھوں کے ساتھ آئی یہ آواز ناگہاں ہے ہے یہ گہرے زخم یہ گرمی ہے الاماں

آکر سنبھالتے نہیں عباس ہیں کہاں

آؤ ہماری گود میں آؤ نثار ماں

مر کر بھی ہم جُدا نہیں پیارے کے ساتھ ہیں واری یہ تیرے پالنے والی کے ہاتھ ہیں اُن ہاتھوں کا مِلا جو سہارا حسین کو گھوڑے نے بے تکان اُتارا حسین کو نیزہ سناں نے دوڑ کے مارا حسین کو پھر تو رہا نہ ضبط کا یارا حسین کو

جلتی زمیں پہ غش کئی ساعت پڑے رہے

جَلّاد گرد تیغوں کو کھینچے کھڑے رہے لو مومنو لرزتا ہے اب دشتِ کربلا لو غش ہوا بتول کی آغوش کا پَلا لو شمر ذبح کرنے کو مظلوم کے چلا لو اب چُھری ہے اور نبی زادے کا گلا

بیٹے موئے نہ نکلی مگر اب نکل پڑی منھ ڈھانپو ائے حسینیوں زینب نکل پڑی

آیا جو ہوش بولی پیمبر کا واسطہ

آئی بہن جواب دو حیدر کا واسطہ

خیر النسا کا واسطہ شبر کا واسطہ ائے بھائی بے زباں علی اصغر کا واسطہ

بھیا اُٹھو چلو تمہیں بھابی بُلاتی ہیں پیچھے سکینہ جان بھی وہ روتی آتی ہے

یہ بین کر کے منہ پہ ملا منہ کو بار بار

بھائی کو لے کے گود میں بیٹھی وہ بیقرار

بولی کہ سر کو سینے پہ رکھ دو بہن نثار ہے ہے تمام ہوتا ہے بھائی بہن کا پیار

ہے ہے اَخی کے سر سے بدن کی جُدائی ہے

بھائی سے بد نصیب بہن کی جُدائی ہے