پردیس میں مسلمؑ کے یتیموں پہ جفا ہے
دریا پہ پۓ قتل عَدو لے کے چلا ہے
چھوٹا تو بڑے بھائی کا منھ دیکھ رہا ہے
زور اُس کو مدد کا نہیں مشغول بُکا ہے
بے رحم کے قابو میں ہیں دو نازوں کے پالے ہر سونگراں ہیں کہ کوئی آکے بچالے
چھوٹے کو بڑا بھائی ہے بڑھ بڑھ کے بچاتا ہر بار ہے مصحف کیطرح بیچ میں آتا رو دیتا ہے کچھ کہنے کا موقع نہیں پاتا
بے ساختہ اِک بات زباں پر ہے یہ لاتا
سُن حال غریبوں کا خدا کے لئے دم لے
اب ہم تیرے گھر میں کبھی آئیں تو قسم لے کچھ گھر میں تیرے چین نہیں پایا ہے ایسا توڑا ہے فقط پانی سے فاقہ کئی دِن کا
خود آئے نہیں کی تیری زوجہ نے تمنّا
حجرے میں نمازیں ہیں پڑھیی اور کیا کیا ہم بچے ہیں تو اپنی بزرگی پہ عَمل کر
تقصیر جو کچھ ہم سے ہوئی ہو وہ بحل کر
یہ جُرم ہے بن پوچھے جو آئیں ہیں تیرے گھر
حجرے میں رہے شب کو بھی بیدار برابر کُرتے پھٹے گیسو کھچے سیلی لگی ہم پر تکلیف بہت دے چکا اب چھوڑ ستمگر
جنگل میں کہیں بیٹھ کے ہم روئینگے ظالم
منھ کر کے تیرے گھر کو نہ اب سوئینگے ظالم
سنتا نہ تھا مظلوموں کی اِک بات ستمگر
دیتے تھے ندا زوجہ حارث کو یہ بڑھ کر یہ جانتے تو ہم کبھی آتے نہ تیرے گھر مہمانوں کو اپنے تو بچاتی نہیں مادر
چُھڑ وادے کہ پکڑے ہوئے زلفوں کو عدو ہے
اماں نہیں بابا نہیں جو کچھ ہے سو تو ہے
بالوں کو بکھیرے ہوئے وہ مومنہ تھی ساتھ مظلوموں کو ظالم سے چھڑاتی تھی وہ خوش ذات کہتی تھی خدا کے لئے کیا کرتا ہے بدذات
گہہ پاؤں پہ سر رکھی تھی گہہ باندھتی تھی ہاتھ
بس بس کے زمیں اب تو ہلی جاتی ہے ظالم
زہراؐ مجھے سر ننگے نظر آتی ہے ظالم
ظالم نے تہہ تیغ کیا زوجہ کو اُس آں یا فاطمہؐ کہہ کر ہوئی زہرا پہ وہ قرباں
دریا پہ عدو لایا اُنھیں پکڑے گریباں
دی تیغ غلامِ حبشی کو وہاں عُریاں
غصّے سے کہا دونوں کو انگلی سے دکھا کر
ہاں کاٹ لے سر اُن کے کنارے پر تو جا کر تلوار کو چمکا کے بڑھا وہ حبشی آہ یہ تیغ تلے سر کو جھکا کر ہوئے ہمراہ لکھا ہے کہ تھا وہ حبشی مردِ حق آگاہ رستے میں خطاب اُس سے کیا دونوں نے ناگاہ ہمشکلِ بلالِ شہ لولاک کا تو ہے
سچ کہہ کہ پیمبرؐ کا محب ہے کہ عدد ہے
فرزند کو دی حارثِ ملعون نے تلوار
اور بولا کہ سر کاٹ لے اِن دونوں کے ایکبار
وہ بولا کہ مجھ سے یہ نہیں ہوئے گا زنہار
یہ تو ہی ہے بد بخت سیہ رو و جفا کار
حارث تو پسر کِس کا شقیِ ازلی ہے ماں فاطمؐہ ہے مومنوں کی باپ علی ہے تو کور ہے ظالم نظر آئے تجھے کیونکر لے دیکھ نبی روتے ہیں دریا پہ کُھلے سر یہ سُن کے اُٹھا حارثِ ملعون و ستمگر
ظالم نے کہا مجھ کو نہیں خوفِ پیمبر اِک تیغ تلے دونوں برادر کو بٹھا کر
سر کاٹا بڑے بھائی کا چھوٹے کو دکھا کر
سر پاس رکھا لاش کو دریا میں بہایا
بھائی کے گلے کا جو لہو خاک پہ پایا اُلفت سے برادر کا لہو جوش میں آیا تب جوڑ کے ہاتھ اپنے یہ قاتِل کو سنایا پوچھوں یہ لہو کُرتے سے تلوار جُھکا دے لوٹوں بڑے بھائی کے لہو میں جو رضا دے
وہ بولا کے ہو شوق سے غلطاں مجھے کیا ڈر
بھائی کے لہو میں وہ لگا لوٹنے گر کر کہتا تھا بڑے بھائی کہاں ڈھونڈھے بر ادر تم تو ابھی بیٹھے ہوئے تھے میرے برادر کس نے ہے نصیب ایسے اُلٹتے ہوئے دیکھا
بھائی نے گلا بھائی کا کٹتے ہوئے دیکھا