Kanz e Aza

کہتی تھی رن میں آ کے سکینہ جواب دو

A marsiya. Lyrics in Urdu.

کہتی تھی رن میں آ کے سکینہ جواب دو

جانِ نبی و فاطمہ زہرا جواب دو کیوں سو‌ رہے ہو خاک پر تنہا جواب دو

آئی ہوں تم کو ڈھونڈ نے اس جا جوب دو مرتی ہوں غم سے میرے مسیحا جواب دو

بابا جواب دو میرے بابا جواب دو

زخمی ہوئے ہیں کان مرے چھن گئے گوہر کس سے کہوں کہ زخموں میں ہے درد پیشتر

فریاد تم سے کرنے میں آئی ہوں اے پدر ہے قابلِ مُلاحِظہ ہے حال سر بسر

دیکھو یہ خون بھرا ہوا کُرتا جواب دو

با با جواب دو میرے بابا جواب دو

قیدی بنا کے شام کو لے جاتے ہیں ہمیں

پرساں نہیں ہے کوئی کہ کچھ اس سے ہم کہیں

فریاد غم زدوں کی نہ حضرت بھی گر سُنیں کب تک اِن آفتوں میں رہے آہ کیا کریں کیا کہ رہی ہوں سَیّدِ والا جواب دو

با با جواب دو مرے بابا جواب دو اے جانِ فاطمہ و پیمبر اُٹھو اٹھو اے نورعین فاتحِ خیبر اٹھواٹھو

دیکھو اسیر ہوگئی خواہر اٹھو اُٹھو

چلا رہی ہے آپ کی دختر اٹھو اُٹھو کیا سور ہے ہو بیٹی کے شیدا جواب دو

بابا جواب دو میرے بابا جواب دو

بے گور کیوں پڑے ہیں تمہارے رفیق سب لاشہ یہ جلتی ریت پہ میں دیکھتی ہوں جب ہوتا ہے میرے دل پہ دوبالا غم و تعب

دفناتا ان کو کوئی نہیں اس کا کیا سبب

کیوں بے کفن ہر اک کا ہے لاشہ جواب دو

بابا جواب دو میرے بابا جواب دو

آتی ہے دادی جان کی آواز یاں سنو کس درد سے پکارتی ہی بابا جاں سنو کرتی ہیں کیسے رنج و الم کے بیاں سنو کیا سور ہے ہو بنتِ نبی کی فغاں سنو کس منتوں سے کہتی ہے زہرا جواب دو

بابا جواب دو میرے بابا جواب دو پوچھے جو مجھ سے حال تمہارا بیاں کروں

، پیاسے شہید ہو گئے بابا بیاں کروں اکبر کا میں نے دیکھا ہے لاشہ بیاں کروں اصغر کا سر بھی نیزے پہ دیکھا بیاں کروں

کیا کہہ کے اس کو دوں میں دلاسہ جواب دو

بابا جواب دو میرے بابا جواب دو روتے تھے آپ میں جو کبھی کرتی تھی

فعال

سمجھا کے لیکے گود میں کرتے تھے یوں بیاں

قربان تیرے آنکھوں کے آنسو نہ کر رواں اب میرا رونا اور یہ غم کھانا بابا جاں کیوں آپ کو ہوا ہے گوارا جواب دو

بابا جواب دو میرے بابا جواب دو