Kanz e Aza

ہے قصد کچھ فضائلِ باقر رقم کروں

A marsiya. Lyrics in Urdu.

ہے قصد کچھ فضائلِ باقر رقم کروں تحریر معجزاتِ اِمام اُمم کروں لکھنے میں مثل خامۂ سر عجز خم کروں لوح و قلم کو غیرت لوح و قلم کروں انوارِ معجزات سے روشن کتاب ہو

خامہ شعاع ہو تو ورق آفتاب ہو

اک دن پدر کی گود میں تھا وہ فلک مقام اک شیعہ لایا نذر دراہم پئے امام

سخاد کے حضور وہ درہم رکھے تمام

درہم سے کھیلنے لگا فرزندِ نیک نام کیا عقل دی تھی خالقِ روز حساب نے

درہم زمیں پہ پھینک دیا اُس جناب نے تب دوڑ کر محّب نے وہ درہم اُٹھا لیا اور اُس کو درمیانِ درہم پھر ملا دیا

باقر نے چن کے پھر وہی درہم جدا کیا

طفلی میں تھی یہ آپ پہ تائیدِ کبریا لکھا ہے تین بار یہی ماجرا ہوا اُس دم محّب کو شہ کے تحیر بڑا ہوا

عابد سے کی یہ شیعۂ عابد نے التجا ارشاد آپ کیجئے یہ ماجرا ہے کیا

شہ نے کہا یہ عادتِ طفلی نہ جاننا ہوگا امام بعد ہمارے یہ مہ لقا

درہم یہ ایک غصبی و مالِ حرام ہے کیونکر اِسے قبول کرے یہ امام ہے

باقر پہ وہ نثار ہوا پاؤں چوم چوم

طفلی سے شہ کے عِلم خدا داد کی تھی دھوم

باقر کی شرح کرتے ہیں یہ خاص اور عموم یعنی ہے وہ امام شگافندهٔ علوم تھا کوئی رازِ غیب نہ شہ سے چھپا ہوا

عقدہ وہ کون تھا جو نہ حضرت سے وا ہوا لکھتا ہوں اب شہادتِ مولائے خوش نہاد تھا بس کہ زید ابنِ حسن کو حسد زیاد رکھتا تھا بغض آپ سے وہ بانیٔ فساد کرتا تھا مجلسوں میں حقارت سے شہ کو یاد تھا منحرف وہ باقرِ عالی مقام سے کرتا تھا ادعائے امامت امام سے

سوگند کھا کے زید نے اس وقت یہ کہا

دعویٰ نہ اب کرونگا اِمامت کا مطلقا پھر سوئے ملکِ شام وہ ملعوں رواں ہوا

عبدالملک سے جا کے کہا سب یہ ماجرا

آخر کو یہ کہا کہ ہمارے گمان میں

باقر سا اب نہیں کوئی ساحر جہان میں

عبد الملک کو بغض و خصومت ہوئی زیاد

کیا کیا نہ اُس نے شاہِ امم سے کئے فساد

آخر امام کو یہ لکھا اَز رهِ عناد میں بھیجتا ہوں زید کو ائے شاہِ خوش نہاد ابنِ حسن کو لائق تکریم کیجئے تادیب کیجئے اُسے تعلیم کیجئے اور ایک زین تعبیہ جس میں کیا تھا سم ہمراہِ زید بھیجا برائے شہ اُمم

آیا جو زید روبروئے شاہِ با کرم

شہ بولے ہے جو قصد ترا جانتے ہیں ہم

ائے ابنِ عم یہ ظلم و ستم تو نے کیا کیا اس زین میں ہے تعبیہ زہر دغا کیا اِس زین پر میں ہوتا ہوں دانستہ اب سوار

بندہ کو کیا مشیتِ ایزد میں اختیار

باندھا وہ زین اسپ پہ اللّٰہ رے انکسار اور زیبِ راہوار ہوا شاہِ باوقار موت اپنی کی پسند رضائے الہ میں اُس زہر نے نفوذ کیا جسمِ شاہ میں

شہ نے مراجعت کی سواری سے آہ جب

بس آشکار ہو گئے آثارِ موت سب

فرمایا تین روز کے ہم میہماں ہیں اب

جعفر کو لاؤ اور کفن بھی کرو طلب

طالب کفن کے بدلے ہیں اِس پیراہن کے ہم

کعبہ کا طواف کرتے تھے جس کو پہن کے ہم لائے وہ جامہ حضرتِ صادق بچشم تر

حضرت نے پیار کر کے کہا اُن کو اے پسر

جاتا ہوں میں جہاں سے تو ہوتا ہے بے پدر

دنیا سے آج کرتا ہوں عقبٰی کا میں سفر پیارے پدر کے مرنے کا تم غم نہ کھائیو مظلومیٔ حسین پہ آنسو بہائیو