Kanz e Aza

جب داغِ بیکسی نہ سکینہ اُٹھا سکی

A marsiya. Lyrics in Urdu.

جب داغِ بیکسی نہ سکینہ اُٹھا سکی اور دردِ دل نہ خوف کے مارے سناسکی کھائے طمانچے شمر کے جب تک کہ کھا سکی

سِن کم تھا دکھ بہت تھے نہ برداشت لا سکی روئی تو ظالموں نے جفا بے شمار کی

آخر یہ جبر دیکھ کے موت اختیار کی گر آہ کی تو شمر پکارا خموش ہو

اور چپ ہوئی تو بے پدری نے کہا کہ رو گہ شدتِ عطش سے پکاری کہ پانی دو

گہہ یاد کر کے رہ گئی بابا کی پیاس کو

سوئی جو آنسو پونچھ کے چشمِ پر آب سے

ہے ہے حسین کہ کے پھر اُٹھ بیٹھی خواب سے

دل میں سما گیا تھا جو شمر لعیں کا ڈر

سونے میں کانپ کانپ یہ کہتی تھی رات بھر

فریاد چِھینتا ہے گہر شمرِ بد گہر

آتا ہے ابنِ سعد چھپوں جاکے میں کدھر

زینب پھوپی سنبھالو کلیجہ دھڑکتا ہے

سجاد بھائی دیکھو یہ خولی گُھر کتا ہے

جب پیاس لگتی رو کے چچا کو پکارتی

دُکھتے جو کان شاہِ ہدا کو پکارتی

آتا نہ جب کوئی تو خدا کو پکارتی

جینے سے تنگ ہو کے قضا کو پکارتی کہتی تھی نے چچا نہ امامّ امم رہے رُلوانے کو عدو رہے رونے کو ہم رہے

چُپ تھی تو چُپ تھی بولتی جو تھی ڈری ہوئی واں شمر آیا تن میں اِدھر تھر تھری ہوئی تھی آہ بات بات میں لب پر دھری ہوئی گردن کی ریسمان لہو سے بھری ہوئی

دم رُکنے لگتا تھا تو رسن کھول دیتے تھے

باہر جو شمر بولتا تو باندھ لیتے تھے

حالِ شبِ وفاتِ سکینہ ہے یادگار گویا کہ اپنی مرگ تھی بیکس پہ آشکار

ملتی تھی شام سے وہ گلے سب کے بار بار ماں کی بلائیں لیتی تھی وہ ماں کی غمگسار تسلیم کو پھوپی کی کبھی سر جھکاتی تھی تھی بے خطا پہ سب سے خطا بخشواتی تھی کُبریٰ سے چپکے چپکے کبھی کرتی تھی بیاں کل اک جگہ میں جاؤنگی اِس گھر سے میہاں رو کر وہ پوچھتی تھی کہو تو کہاں کہاں

دروازے میں تو قفل ہے گردن میں ریسماں

یہ کہتی تھی کہ قفل لگا ہے تو کیا ہوا

زنداں ہے بند روضۂ رضواں کُھلا ہوا

زنداں سے کہتی تھی یہ کبھی وہ اسیرِ غم ہو جائیگا کل ایک تیرا مہمان کم میت کسی کی ننھی سی نکلے گی صبح دم

بانو سے یہ خطاب کبھی تھا بچشمِ نم اک تازہ موت ہوگی نبی کے گھرانے میں اماں لٹو گی آج کی شب قید خانے میں

بانو پکاری لُٹ تو چکی اب لُٹوں گی کیا

بی بی نہ نام لُٹنے کا لو تم پہ میں فدا گوہر چھنے طمانچے لگے کان شق ہوا

لُٹنے سے میری بی بی کا پر دل نہیں بھرا

زینب کی پشت نوکِ سناں سے فگار ہے پر میری پیاری لٹنے کی اُمیدوار ہے اب کیا لُٹوں گی مال نہیں زر نہیں رہا اکبر‌ نہیں رہا علی اصغر نہیں رہا رہنے کو قید خانہ ملا گھر نہیں رہا ہاتھوں میں ریسماں بندھی زیور نہیں رہا

دولت ہے کونسی جسے زنداں میں کھوؤنگی

رونا تھا جس کو رو چکی اب کس کو روؤنگی کبری ہے اور تم ہو یہ سجادِ ناتواں

گر یہ بچیں تو نام ہے ورنہ ہوں بے نشاں وہ بولی سب رہیں گے سلامت پہ ہم کہاں ماں نے کہا خدا نہ کرے ائے سکینہ جاں

کی عرض دیکھ لو گی جو پچھلی کو ہووے گا

بابا کی رونے والی کو سب کُنبہ روے گا اب موت میری سب کو مبارک کرے خدا مرتے ہی میرے قید سے سب کُنبہ ہو رہا

جاتا رہے بُخار برادر کا بے دوا

جنت کو ہم رواں ہوں مدینے کو اقربا

غل ہو سکینہ لے کے بلا سب کی مرگئی

حیدر کی پوتی مشکلیں آسان کر گئی