اللّہ کیا مہیب یتیمی کی رات ہے ویراں یتیم کے لئے سب کائنات ہے
دنیا توخیر سب کیلئے بے ثبات ہے
بابا نہو تو موت سے بدتر حیات ہے
دم جس کا اس الم سے گھٹے اُس سے پوچھۓ
جس کا شفیق باپ چُھٹے اُس سے پوچھۓ پوچھے کوئی سکینہ سے اِس واردات کو کیونکر گزارے ہائے یتیمی کی رات کو
دیتے ہیں گُھرکیاں جو عدو بات بات کو روتی ہے یاد کر کے شہِ کائنات کو
سوتی ہے اور نہ قلب کو تسکین ہوتی ہے
گودی میں ماں کی ہچکیاں لے لے کے روتی ہے
آتا ہے یاد اشک بہانا یتیم کا
رو رو کے ہائے سب کو رولا نا یتیم کا
بابا کو در پہ ڈھونڈ نے جانا یتیم کا
دربان کی وہ گُھرکیاں کھانا یتیم کا
ٹھوکر لگی تو سہم کے گِرنا اندھیرے میں
بابا کو اپنے ڈھونڈتے پھرنا اندھیرے میں کہتی ہے مجھ کو چھوڑ کے بابا کہاں گئے
ڈھونڈوں نِکل کے تم کو میں کِس جاں کہاں گئے کسی طرح تم کو پائے سکینہ کہاں گئے
عمّو کدھر ہیں اور میرے بھیّا کہاں گئے کوئی خبر سنا دے مجھے میرے باپ کی کہدے سکینہ روتی ہے فرقت میں آپ کی
سمجھا رہی ہے ماں کہ مری جان صبر کر مادر ہزار جان سے قربان صبر کر روئے گی کب تلک مری نادان صبر کر
رونا تو عمر بَھر ہے یہ اک آن صبر کر روۓ یتیم وہ جِسے اعدا کا ڈر نہو
ڈر ہے مجھے کہ شمر کو اس کی خبر نہو
یہ کہکے سر جو پیٹ کے روئی بہ شور و شین
دیوارِ قید خانہ پہ آیا سرِ حُسین
آواز دی سکینہ کو اے میری نورعین
مرنے کے بعد بھی میرے دل کو نہیں ہے چین
آرام دن کو اور نہ راتوں کو چین ہے
بے چین تیرے واسطے بیٹی حسین ہے
دیکھا سکینہ نے جو سرِ سرورِ عرب پھیلا کے دونوں ہاتھوں کو دوڑی و خوش لقب
دامن کو اپنے کُرتے کے پھیلایا اُس نے جب گودی میں اُسکی آگیا سر شاہِ دیں کا تب
سر آیا، یا کہ موت کا پیغام آگیا کچھ ہو مگر سکینہ کو آرام آگیا
بابا ندا کے واسطے ہمراہ لے چلو
چھوڑو نہ قید خانے میں یا شاہ لے چلو
بیٹی کو اپنی اے شہِ ذیجاہ لے چلو
دشوار زیست ہو گئی واللّہ لے چلو لے چلئے ساتھ ہجر اُٹھایا نہ جائے گا
بس اب تو مجھ سے گُھر کیاں کھایا نہ جائے گا
زینب کو دی صدا کہ میں قربان آیئے
بی بی مری سکینہ کو آکر جگائیے
بچی خموش ہو گئی شانہ ہلایئے
بی بی کا سر حُسین کے سر سے اُٹھائے ملتی نہیں ہے نبض بھی اللّہ کیا کروں کس کو بُلاؤں کس سے کہوں آہ کیا کروں
عابد کو پھر پکاری کہ لِلّہ جلد آؤ
بیٹا بہن کو باپ کے سر سے ذرا اُٹھاؤ
جس طرح ہو سکے مری نادان کو جگاؤ
قربان جاؤں حال تو خواہر کا دیکھ جاؤ مطلق خبر نہیں اُسے میں بِلبِلاتی ہوں اُٹھتی نہیں ہے کب سے میں شانہ ہلاتی ہوں
بی بی بتاؤ مادرِ غم خوار کیا کرے
غُسل و کفن کی فکر دل افگار کیا کرے
بھائی تمہارا قید میں ناچار کیا کرے کیونکر لحد بنائے گا بیمار کیا کرے
بابا ہے سر پہ اور نہ کوئی شفیق ہے ہمدم ہے بے بسی تو یتیمی رفیق ہے
حالت جو دل کی ہے کِسے دکھلاؤں کیا کروں تابوت تیرا کِس سے میں بنواؤں کیا کروں
عباس کو کہاں سے بُلاؤں میں کیا کروں کس طرح پانی غسل کو منگواؤں کیا کروں ایسی کوئی مثال نہ ہوگی زمانے میں
بی بی قرار پائے گی تو قید خانے میں مادر کو اپنے پاس بلاؤ سکینہ جاں
بابا کو یاد کر کے رُولاؤ سکینہ جاں
خالق نگاہ بان ہے جاؤ سکینہ جاں واپس بھی آؤ گی یہ بتاؤ سکینہ جاں
زندان آج شام کو سنسان ہوئے گا ویرانہ اب یہ اور بھی ویران ہوئے گا
جاگے گی تیرے غم میں یہ مضطر تمام رات
مجھ کو نہ نیند آئے گی دم بھر تمام رات
سؤے گی تُو تو قبر کے اندر تمام رات روۓ گی تیرے واسطے مادر تمام رات افسوس ایسے وقت میں منھ مجھ سے موڑ کے
بابا کا ساتھ تم نے دیا ماں کو چھوڑ کے ماں صدقے بیقرار نہ ہونا مزار میں تکیہ ہے اور نہ نرم بچھونا مزار میں مادر کو لیکے ساتھ ہی سونا مزار میں
بابا کو یاد کر کے نہ رونا مزار میں
قربان جاؤں اب تو تمہیں چین آئے گا مرقد پہ شُمر گُھرکیاں دینے نہ آئے گا