Kanz e Aza

انساں کیلئے موت ہے غم بے وطنی کا

A marsiya. Lyrics in Urdu.

انساں کیلئے موت ہے غم بے وطنی کا

جانکاہ ہے اَندوہ الم بے وطنی کا

صدمہ نہیں کچھ موت سے کم بے وطنی کا

آفت ہے قیامت ہے ستم بے وطنی کا کانٹوں کے الم سیدِ سجاد سے پوچھو ایذائے سفر مسلمِ ناشاد سے پوچھو

کی سخت دغا کو فیوں نے گھر سے بلا کے

سب پھر گئے جن لوگوں کے دعوے تھے وفا کے لاکھوں ہیں عدو جا ئیں کدھر جان بچا کے

آفت میں گرفتار ہوئے کوفے میں آکے یاور نہیں ہمدم نہیں غمخوار نہیں ہے نرغے میں ہیں اور کوئی مددگار نہیں ہے ہیں سنگ دل ایسے وہ جفا کار و ستمگر کوٹھوں سے لگانے لگے مظلوم پہ پتھر نورانی بدن ہو گیا مجروح سراسر اور سامنے سے منھ پہ لگا ظلم کا خنجر

کیوں گر نہ پڑا ہائے فلک پھٹ کے زمیں پر لعلِ لبِ جاں بخش گرے کٹ کے زمیں پر منھ کر کے سوئے چرخ کہا شکر خدا یا راحت ہے یہ بندے نے جو کچھ ظلم اُٹھایا

غم یہ ہے کہ ہے دور یداللّہ کا جایا

شبیر کے ہاتھوں سے کفن ہم نے نہ پایا

دنیا سے سوئے خلد کوئی دم میں سفر ہے

یاں ہم پہ جو کچھ بن گئی کیا ان کو خبر ہے یہ کہتے تھے مسلم کہ لعینوں نے قضا را اک سنگِ ستم اس لبِ مجروح پہ مارا ریش اور گر یباں میں لہو بھر گیا سارا

جب حال یہ پہنچا تو کہا جنگ کا یارا اعداء سے کہا دل میں ذرا رحم کو جادو

غش آتا ہے پانی مجھے تھوڑا سا پلا دو

کب سنتے تھے بے کس کا سخن ظلم کے بانی تھے قتل کی تدبیر میں وہ دشمنِ جانی لے آئی ضعیفہ وہیں اک جام میں پانی

قسمت نے مگر بجھنے نہ دی تشنہ دہانی

سوکھی ہوئی تھی گل سی زباں خشک گلو‌تھا

اس پانی کو منھ سے جو لگایا تو لہو تھا

ٔپھینکا اسے جب خاک پہ با دیدہ گریاں اک جام ضعیفہ نے دیا پھر انھیں اس آں پینے بھی نہ پایا تھا کوئی گھونٹ وہ ذیشاں

ِپانی میں جدا ہو کے گرے گوہر دنداں

فرمایا کہ ثابت ہوا پیا سے ہی مریں گے اب ساقیٔ کوثر ہمیں سیراب کریں گے

دشمن تو کئی سو تھے یہ بے یارو مدد گار

برچھی کبھی پڑتی تھی کبھی پڑتی تھی تلوار اندوہ پہ اندوہ تھے آزار پہ آزار

کس یاس سے اک ایک کا منھ تکتے تھے ہر بار

بازو کو ستمگار جو باندھے تھے رسن سے

فوارۂ خوں چھٹتا تھا ہر زخم بدن سے القصہ لبِ بام جو لایا انھیں سفاک

ِتر آنسوؤں سے ہو گیا مسلم کا رخ پاک

فریاد سوئے کعبہ یہ کی با دلِ غمناک روحی بفداک اے پسرِ سیدِ لولاک کرتا ہے سفر خلق سے غم خوار تمھارا موقوف ہے اَب حشر پہ دیدار تمھارا

فرما کے یہ گردن طرف قبلہ جھکائی

شمشیر جفا کار نے چمکا کے اُٹھائی آواز یہ مخدومۂ کونین کی آئی مرتا ہے ہر اول میرے بچے کا یہ بھائی

اس ظلم سے باز آ جو خدا کا تجھے ڈر ہے

ظالم سرِ مسلم پہ مرا ہاتھ سپر ہے

میرے لئے کم حشر کے دن سے یہ نہیں دن

ٔتربت سے میں نکلی ہوں لئے لاشہ محسن مظلوم کو تو قتل تو کرتا ہے وہ لیکن

بن باپ کے ہو جا ئینگے بچے کئی کم سن

خوں سر پہ نہ لے چھوڑ دے آوارہ وطن کو کر بیوہ نہ عباسِ دلاور کی بہن کو

زہرا نے کئی بار تڑپ کر یہ پکارا

کیا دل تھا کہ مطلق نہ ڈرا وہ ستم آرا

ظالم نے کئی ضرب میں سر تن سے اُتارا پھٹتا ہے جگر اب نہیں گویائی کا یارا لکھا ہے چلا لے کے جو قاتل سرِ مسلم کوٹھے کے تلے پھینک دیا پیکرِ مسلم