Kanz e Aza

اُمِ كلثوم خواہرِ زينب

A marsiya. Lyrics in Urdu.

اُمِ كلثوم خواہرِ زينب

زندگی بھر سہی تو رنج و تعب گذرے رونے میں تیرے روز و شب مرگئی غم اُٹھا کے ہائے غضب اب علی و بتول روتے ہیں پیٹ کر سر رسول روتے ہیں

بھائی کو روز و شب جو روتی تھی منہ کو اشکوں سے اپنے دھوتی تھی

غم سے فرصت جسے نہ ہوتی تھی

جان رو رو کے اپنی کھوتی تھی وہ جہاں سے گزر گئی ہے ہے اُم کلثوم مرگئی ہے ہے یاد آتے ہیں تیرے غم بی بی وہ اسیری وہ قید کی سختی تجھ پہ یورش غم و الم کی تھی اُف وہ روداد بے ردائی کی تجھکو جب سے غمِ حسین ملا ایک پل بھی تجھے نہ چین ملا

قید سے چھٹ کے جب وطن آئی

ساتھ بھائی کا اپنے غم لائی

ضبط کرنے نہ پائی دکھ پائی

دیکھا جسدم مدینہ چلائی

غم پہ غم ہم اُٹھا کے آئے ہیں

سارے گھر کو لٹا کے آئے ہیں اے مدینے ہمیں قبول نہ کر کٹ گیا تیغ سے حسین کا سر

چھن گئی تھی سروں سے بھی چادر واپس آئے ہیں پھر کے ہم در در مرتے دم تک یہ غم اُٹھانا ہے ایسا آنا بھی کوئی آنا ہے ہم مصیبت اُٹھا کے آئے ہیں

قید خانے میں جاکے آئے ہیں

بھائی بیٹے گنوا کے آئے ہیں

قبر شہہ کی بنا کے آئے ہیں

ساتھ بیٹے ہیں اور نہ والی ہیں گودیاں بیبیوں کی خالی ہیں

بین تو نے کئے جو زارو قطار

غم سے دل ہو گئے سبھی کے فگار

داغ تھے تیرے ایک دل پہ ہزار کتنی پُر درد تھی وہ تیری پکار

خوں رُلاتا تھا مرثیہ تیرا

غم سے دل چور چور تھا تیرا ہائے کیسی اُلٹ گئی تقدیر گئی دربار میں تو ہو کے اسیر

آخری سانس تک رہی دلگیر اُمِ کلثوم خواہرِ شبیر کر بلا یاد جب بھی آتی ہے یاد تیری ہمیں رُلاتی ہے

سرِ بازار سر کھلے آنا

دُرے ظالم کے پشت پر کھانا یاد عباس کو وہ فرمانا تیرا دربارِ شام میں جانا

ختم ہر اک بلا ہوئی تجھ پر

ظلم کی انتہا ہوئی تجھ پر

صدمے وہ قید کے اسیری کے اُم کلثوم سے کوئی پوچھے

جس نے دنیا میں غم ہی غم دیکھے مرگئی بھائی پر وہ رو رو کے

غم سے منہ کو کلیجہ آتا ہے تذکرہ جس کا خوں رُلاتا ہے