Kanz e Aza

جب زینبِ غریب کے رن میں پسر لڑے

A marsiya. Lyrics in Urdu.

جب زینبِ غریب کے رن میں پسر لڑے تنہا لڑے یہ آہ وہ سب اہلِ شر لڑے کس خوبصورتی سے علی کے جگر لڑے اک شور پڑ گیا کہ غضب شیرِ نر لڑے ورثہ انھیں ملا ہے جنابِ اَمیر کا

یہ زور سب ہے شیر کی بیٹی کے شیر کا

زینب جو ننگے پاؤں کھڑی تھی قریبِ در

عباس جاکے دیتے تھے یہ دمبدم خبر روئیں نہ اب حضور مہم ہو چکی ہے سر لاکھوں سے لڑ رہے ہیں غضب آپکے پسر

زور آج پھر دکھا دیا خیبر کشائی کا اب تو انھیں کے ہاتھ ہے میداں لڑائی کا

آنسو بہا کے بنتِ علی نے کہا کہ ہاں

دیں اور ہمتیں انھیں خلاقِ انس و جاں

بچے کہاں ہزاروں کا وہ معرکہ کہاں کچھ ہو انھیں فلک نے نہ ہونے دیا جواں

بیکس ہوں اور اُس پہ مجھے اعتماد ہے

خالق وہ دے کہ جو مرے دل کی مراد ہے

بھیا کچھ اپنے بیٹوں کا مجھ کو نہیں خیال مر جائیں لڑکے یا کہ ہوں ٹاپوں سے پائمال

صدقے کروں ہزار جو ایسے ہو نونہال

سب دولتیں لٹیں پہ بچے فاطمہ کا لال

آئے بہن پہ وہ جو بلا اُن پہ آئی ہو

دنیا میں کوئی ہو کہ نہ ہو میرا بھائی ہو

یہ ذکر تھا کہ بھائی کو حضرت نے دی صدا

عباس آؤ گِھر گئے زینب کے دلربا

دوڑے صدا یہ سنتے ہی عباسِ باوفا اثنائے راہ میں علی اکبر نے یہ کہا

زندہ رکھا فلک نے یہ آنسو بہانے کو

چلئے حضور جاتے ہیں لاشے اُٹھانے کو

پیاری بہن کے بیٹوں کا دیکھا جو شہ نے حال تن چاک چاک ہے گلِ صد برگ کی مثال الجھے ہیں پیچ کھائے ہوئے گیسوؤں کے بال اودے ہیں ہونٹ چاند سے چہرے لہو سے لال ماتھے ہیں شق سروں سے عمامے بھی دور ہیں

سب چھوٹی چھوٹی پسلیاں تیغوں سے چور ہیں

چلائے گردنوں کے تلے ہاتھ دیکے شاہ منہ سے ملاؤ منہ کہ مرا حال ہے تباہ

آنکھوں میں دم تھا بولتے کیوں کر وہ رشکِ ماہ

ِروتے تھے نبض دیکھ کے عباس عرش جاہ

دنیا سے کوچ کرتے تھے بچے پلے ہوئے ہاتھوں میں تھے حسین کے منکے ڈھلے ہوئے

کچھ کچھ ابھی تھا دم کے انھیں لے چلے امام اک لاش کو تو آپ لئے تھے شہ انام اور ایک لاش حضرتِ عباس نیک نام

خیمہ تھا سامنے کہ بِضاعت ہوئی تمام

جیتے نہ پہنچے ہائے غضب خیمہ گاہ میں

دونوں صغیر مرگئے اثنائے راہ میں

چلائے رو کے حضرت عباس نامور

چھوٹا تمام ہو گیا یا شاہِ بحروبر

حضرت پکارے ہاتھ کلیجے پہ مار کر

ہے ہے بڑا بھی مر گیا ویراں ہوا یہ گھر ماں منتظر ہے چاک گریباں کئے ہوئے کسی منھ سے جاؤں خیمے میں لاشے لئے ہوئے

زینب کے دل کو ہوگئی واں خود بخود خبر

جا بیٹھی آپ ماتمی صف پر جھکا کے سر لائے حسین دونوں کے لاشے لہو میں تر

فرمایا ہائے لٹ گیا بیکس بہن کا گھر

دو خنجر ایک بار کلیجے پہ چل گئے

آۓ تھے تم سے ملنے کو پر دم نکل گئے