جب محفلِ یزید میں داخل حرم ہوئے
غش آیا ہر قدم پہ یہ ظلم وستم ہوۓ
زینب پکاری حادثے ایسے بھی کم ہوئے
سرکٹ گیا حسین کا سر ننگے ہم ہوئے کیوں آسمان گر نہیں پڑتا دھائی ہے
زہرا کی بیٹی سامنے حاکم کے آئی ہے موجود انجمن میں صغیر و کبیر ہیں
حاکم کے گرد کرسیوں پہ سب امیر ہیں
خاصانِ ذوالجلال ذلیل و حقیر ہیں مشکلکشا کے خورد و کلاں سب اسیر ہیں کہدے کوئی علی سے یہ دار السلام میں
زینب کا داخلہ ہوا دربارِ عام میں ائے لوگو کربلا سے مرے بھائی کو بلاؤ ائے لوگو میرے گیسوؤں والے جواں کو لاؤ ائے لوگو میرا حادثہ عباس کو سناؤ ائے لوگو یادگارِ حسن سے کہو کہ آؤ
قاسم سے ہائے کچھ نہ کُمک اس گھڑی ہوئی یہ بال کھولے کس کی دولہن ہے کھڑی ہوئی ہو کر اسیر دخترِ حاتم جو آئی تھی نانا نے میرے خود اسے چادر اڑھائی تھی پوشاک اماں نے نئی اُس کو پنہائی تھی
سب کو یہ پاس تھا کہ سخی کی وہ جائی تھی اُمت کو ہائے پاسِ رسولِ خدا نہیں
زینب بر ہنہ سر ہے اور اُن کو حیا نہیں
بابا کو میرے پوچھو تو کیسا سخی ہے وہ
مشکل کشا ہے کل کا خدا کا ولی ہے وہ
نانا کو میرے دیکھو کہ سب کا ولی ہے وہ
بھائی کے صدقے فخرِ نبی و علی ہے وہ میری خبر اسیری میں لیتا نہیں کوئی کپڑا بھی منہ چھپانے کو دیتا نہیں کوئی
دربار میں یزید کے ہر سو تھا اِژدھام تھرا رہے تھے بید کے مانند خاص و عام
بیٹھا تھا تختِ نحس پہ وہ نطفۂ حرام
اک ہاتھ میں تو شیشہ تھا اک ہاتھ میں تھا جام
بالائے تخت شغل تھا اُس کو شراب کا اور زیرِ تخت سر تھا خلفِ بوتراب کا
حاضر وہاں تھا ایک فرنگی بھی اُس گھڑی روکر کہا یزید سے اُس نے کہ ائے شقی تیرے معاملہ سے لرزتا ہے میرا جی
سر ہے طبق میں جس کا یہ محرم ہے کیا کوئی
حاشا جو میں کہوں کہ یہ اہلِ قصور ہے
زلفوں میں بوئے مشک ہے چہرے پہ نور ہے تیرے معاملہ سے مرا ہوش جاتا ہے کیا حرفِ بد تجھے یہ کٹا سر سناتا ہے
جو چوبِ بید اس کے لبوں پر لگاتا ہے کوئی بھی ہاتھ مردے کے سر پر اُٹھاتا ہے اس کا گناہ تو مجھے حیران کر گیا
باقی قصاص رہ گیا اور سر اتر گیا
مذہب پہ اس کی جنگ ہوئی یا کہ ملک پر
کیا منحرف تھا قبلہ سے لوٹا جو اس کا گھر کیا تارک الصلوۃ تھا کاٹا جو اس کا سر
زینب سے ضبط ہو نہ سکا بولی پیٹ کر
حق پر ہوا ہے فرقۂ باطل سے پوچھ لے
سجدے میں سر کٹا ہے یہ قاتل سے پوچھ لے
یہ سن کے اور کانپے فرنگی کے دست و پا کہنے لگا یزید سے تو نے نہ کچھ کہا پوچھے جو شاہِ روم کروں اُس سے عرض کیا
یہ کس کا سر ہے نام بتا اور نسب بتا
بولا شقی کہ بند کرو شور و شین کو کہہ دیجیو یزید نے مارا حسین کو
اُس نے کہا جو کُل کا ہے سلطان وہ حسین نانا کو جس کے آیا ہے قرآن وہ حسین
جسکے پدر کے سب پہ ہیں احسان وہ حسین ماں جس کی فاطمہ ہے میں قربان وہ حسین
جس پر نبی نے اپنے پسر کو فدا کیا
خالق نے جس کو بچۂ آہو عطا کیا
حاکم نے سر ہلایا کہ ہاں ہاں وہی حسین منہ پیٹ کر پکارا فرنگی بہ شور و شین
غارت کرے شتاب تجھے ربِ مشرقین
سر کاٹ کر حسین کا کھویا علی کا چین ائے اہلِ شام کیوں یہی مذہب تمہارا ہے نانا کا کلمہ پڑھ کے نواسے کو مارا ہے