آمد ہے اہلبیتِ پیمبر کی شام میں گیسو کھلے ہوئے ہیں عزائے امام میں
سر پیٹتی ہے فاطمہ دار السلام میں
زینب یہ نوحہ کرتی ہے بلوائے عام میں لوگو خبر کرو میرے نانا رسول کو
بلوئےمیں شمر لایا ہے بنتِ بتول کو نانا تیری نواسی کے سر پر ردا نہیں اور اہلِ شام دیکھتے ہیں کچھ حیا نہیں
عابد غریب مرتا ہے تپ سے دوا نہیں
بےہوش ننھے بچے ہیں آب و غذا نہیں
دل سب کے کانپتے ہیں بدن تھر تھراتے ہیں اب سامنے یزید کے سادات جاتے ہیں ہیں اک رسن میں بارہ گلے وامصیبتا روتے ہیں گودیوں کے پلے وامصیبتا
بس میں ستمگروں کے چلے وامصیبتا
خاکِ عزا ہیں منھ پہ ملی وامصیبتا مشکل قدم اُٹھانا تھا اُس اِژدھام میں یوں عترتِ نبی گئی بلوائے عام میں
زینب تڑپ کے اونٹ پہ کرتی تھی یہ بیاں
دربار میں طلب ہوئے سادات ناگہاں اونٹوں سے اُتریں بی بیاں کہہ کہہ کے الاماں پیشِ یزید لے گئے ظالم کشاں کشاں
سامانِ جشن عام تھا دربارِ عام تھا اور ننگے سر حسین کا کنبہ تمام تھا مُطرب ترانہ سنج تھے رَقاص شادماں پڑھتے تھے تہنیت کے قصیدے قصیدہ خواں
حاضر وکیل روم و ختن با شکوه و شاں ہاتھوں پہ نذرِ فتح لئے خورد اور کلاں
چلاتی تھی بتول یہ ظلمِ شدید ہے یا رب ترے حسین کے مرنے کی عید ہے ناگاہ بڑھ کے شمرِ لعیں نے کیا سلام
بولا کے ائے امیر یہ شادی کا ہے مقام امیدوارِ خلعت و جاگیر ہے غلام
حاضر ہیں سر شہیدوں کے اور عترتِ انام
بڑھ کر پکارہ مرّہ کہ اپنا جگر ہے یہ لے ہم شبیہہ خاص پیمبر کا سر ہے یہ واللہ اِس کے رنج والم میں بصد بکا
فرزندِ بوتراب بہتر جگہ گرا یہ ذکر تھا کہ حشر کا شامان ہو گیا گھبرا گیا یزید کے یہ کیا غضب ہوا
دیکھا تو حرملہ بھی بہت شاد آتا ہے
سر ایک چھوٹے بچے کا ہاتھوں پہ لاتا ہے ہے خونِ حلق حلق کے اوپر جما ہوا ننھا سامنہ ہے پیاس کے مارے کھلا ہوا
باچھوں میں دودھ دونوں طرف ہے بھرا ہوا
سوراخِ تیرِ ظلم گلے میں پڑا ہوا اس خون پر یزید نے جس دم نگاہ کی
اس سے بھی ضبط ہو نہ سکا رو کے آہ کی
بولا بتا کہ اس نے بھلا کی تھی کیا خطا تو نے اِسے نشانہ کیا تیرِ ظلم کا
بچہ پہ بھی نہ کھایا ترس تو نے بے حیا یہ ننھا سا گلہ وہ ترا ناوکِ جفا
بتلا تو کس فلک کا یہ قہر منیر ہے
بانو پکاری بڑھ کے یہ میرا صغیر ہے
حیراں کھڑے تھے سب حرمِ شاہِ مشرقین
مُہرِ سکوت لب پہ نہ شکوه نه شور و شین
زینب نے دیکھا تخت پہ ناگاہ سرِحسین
بے ساختہ تڑپ کے یہ کرنے لگی وہ بین ہے ہے نہ موت آئی مجھے راہِ شام میں
بھیا میرا سلام لو دربارِ عام میں