Kanz e Aza

ائے حیدر یو رحلتِ حیدر کی یہ شب ہے

A marsiya. Lyrics in Urdu.

ائے حیدر یو رحلتِ حیدر کی یہ شب ہے

بے وارثیٔ آلِ پیمبر کی یہ شب ہے ائے ماتمیو روؤ کہ محشر کی یہ شب ہے لو واقعہ فاتح خیبر کی یہ شب ہے کل مومنوں کے سر سے ید اللّہ اُٹھے گا تابوتِ جنابِ اسد اللّہ اُٹھے گا لو مومنو تم ہو گئے بے وارث و والی لو دوستو ہے تم سے وداعِ شہ عالی کل صبح وہ چلا ئینگے حیدر کے موالی

آج احمدِ مختار کی مسند ہوئی خالی

ٹکڑے کئے زہرا نے گریبانِ کفن کے کوئی نہ رہا سر پہ حسین اور حسن کے مسجد میں ستمگار نے کعبہ کو گرایا


بے قدر شبِ قدر کا کچھ دھیان نہ لایا محراب میں قندیلِ امامت کو بجھایا

سیدانیوں کو عید کے نزدیک رلایا


در دا شہِ لولاک کے داماد کو مارا

فریاد کے جبرئیل کے اُستاد کو مارا اب واقعۂ شیر خدا کرتا ہوں تحریر

قاتل کو پکڑ لائے جونہی شبر و شبیر مشکیں تھیں بندھی کانپتا تھا خوف سے بے پیر لعنت کی طرح تیغ تھی قاتل کے گلوگیر رحم آگیا ظالم کے لرز نے پہ علی کو

فرمایا میرے آگے سے سر کا ؤ شقی کو


جب لے چلے قاتل کو تو بولے شہ ابرار یہ دشمنیٔ شیرِ خدا ائے سگِ مکار اِس ماہِ مبارک میں کیا ظلم جفا کار کیا تیری امامت کا علی تھا نہ سزاوار کی شرم نہ محبوبِ خدا سے نہ خدا سے لے دیکھ یہ روتے ہیں پیمبر کے نواسے تھا ساتھ لعیں مسجدِ کوفہ سے سراسر گھر لے چلے سبطینِ نبی شہ کو اُٹھا کر

ٔتھے گرد تو اس لاش کے سب شیعہ حیدر


فرزندِ یتیم آگے تھے سر ننگے برابر

زینب پہ یتیمی کی مصیبت جو پڑی تھی

چلاتی تھی سر پیٹتی تھی در پہ کھڑی تھی

عباس سے حیدر نے کہا چپکے سے جاؤ ہاں فاطمہ کی بیٹی کو ڈیوڑھی سے ہٹاؤ


سمجھاؤ کہ بس عرشِ خدا کو نہ ہلاؤ رہگیروں کو آواز نہ رونے کی سناؤ

اک وقت یہ تھا ایک وہ آفت کی گھڑی تھی رن میں یہی زینب تھی کہ سرننگے کھڑی تھی یہ کہتے ہی بے چین ہوئے حیدرِ کرار


شبیر کی غربت پہ جگر ہو گیا افگار اک سمت سے اتنے میں سنا نوحہ کئی بار لیٹے تھے پہ اُٹھ بیٹھے یہ کرتے ہوئے گفتار کس درد رسیدہ کی یہ فریاد و بکا ہے یہ تو مرے عباس کے رونے کی صدا ہے روکر کہا مولا نے عبث اسکو ہے وسواس کیوں کیوں مرا عباس نہیں آتا مرے پاس یہ سن کے پھرے سر کو جھکائے ہوئے عباس

اور باندھ کے ہاتھوں کو یہ کی عرض بصد یاس وہ درد ہے مجھ کو کہ افاقہ نہیں بابا اِن سب کا ہے آقا مرا آقا نہیں بابا

فرمایا علی نے کہ نہ رو اے مرے دلدار

ِکیوں روتے ہو جیتا ہے ابھی حیدر کرار


بے وارث و والی تمہیں چھوڑونگا نہ زنہار لو دولتِ کو نین تمہیں دیتا ہے غفار اللّہ سلامت رکھے مولا کو تمھارے روٹھو نہ بلاتا ہوں میں آقا کو تمھارے پھر رو کے کہا راضیٔ تقدیر کو لاؤ مظلوم کو لاؤ شہ دلگیر کو لاؤ

شمعِ لحدِ صاحبِ تطہیر کو لاؤ


شبیر کو لاؤ مرے شبیر کو لاؤ لاؤ اسے آفت کا فلک جس پہ گریگا

سر جسکا اِسی کوفہ میں نیزے پہ پھر یگا یہ کہتے ہی شبیر سے غش کر گئے حیدر اور جانبِ اللّہ و پیمبر گئے حیدر

دیدار کے پیا سے لبِ کوثر گئے حیدر

حیدر کے پسر رونے لگے مر گئے حیدر


غل پڑ گیا شاہنشہ ذیجاہ سدھارے

جنت کو جہاں سے اسد اللّہ سدھارے