ائے مومنو یثرب میں عجب نوحہ گری ہے
زہرا کیلئے داغِ غم بے پدری ہے
لب خشک ہے منھ زرد ہے آنکھوں میں تری ہے پیغمبرِ کونین چراغ سحری ہے ہوتے ہیں جدا خیرِ بشر خیرالنسا سے محبوبِ خدا چھوٹتے ہیں شیرِ خدا سے
جس کا کلمہ پڑھتے ہیں سب مومنِ دیندار اب عازمِ فردوس ہیں وہ خاصۂ غفار مکہ میں مدینے میں تباہی کے ہیں آثار اب ہوتے ہیں اُمت سے جدا احمدِ مختار
فاقے کئے غمگیں رہے دنیا کے سفر میں
آخر سفرِ مرگ کیا ماہِ صفر میں اک کافرہ نے گوشت میں تھا زہر کھلایا اُس زہر نے آخر یہ اثر اپنا دکھایا مولا کو سرِ بسترِ آزار گرایا
حصے میں حسن کے وہی زہرِ ستم آیا کمزور کیا تپ نے رسولِ عربی کو
طاقت نہ رہی بیٹھنے اُٹھنے کی نبی کو ہے آخری اِس وقت مرا وعظ و نصیحت اب منبر و محراب سے ہوتا ہوں میں رخصت
آنا تھا مِنَ اللّٰه اِلى اللّٰه ہے رحلت اب ہوگی ملاقات میری روزِ قیامت تم غم میں میرے نالہ و فریاد کرو گے اِمسال مجھے حج میں بہت یاد کرو گے
دو چیزیں میں چھوڑے ہوئے جاتا ہوں مگر ہاں
وہ اک تو مری آل ہے اور ایک ہے قرآں
قرآن کی حافظ میری عترت ہے نگہباں یہ دونوں بزرگی و فضیلت میں ہے یکساں
قرآن تو تم سب کی تلاوت کے لئے ہے اور آل پیمبر کی ہدایت کے لئے ہے گر بعد میرے پہنچےگا زہرا کو کچھ آزار مرقد سے میری پشت نہیں لگنے کی زنہار یہ چار بزرگ آلِ پیمبر ہیں خبردار
زہرا و حسین و حسن و حیدر کرار واجب میرے اصحاب پہ ان سب کی ولا ہے یارو یہی تبلیغِ رسالت کا صلا ہے
فارغ جو ہوا وعظ سے وہ عاشقِ داور پھر گھر میں گئے اور گرے فرشِ اجل پر اُس روز سے تشریف نہ پھر لے گئے باہر
بس قبر میں جانے کو اُٹھے واں سے پیمبر
حیران و پریشان و دل افسردہ تھی زہرا
بابا ابھی جیتا تھا مگر مردہ تھی زہرا پر احمدِ مختار تھے جب ہوش میں آتے
زہرا کو بصد پاس کلیجہ سے لگاتے گہہ پیار سے یہ دونوں نواسوں کو سناتے میں اچھا ہوں تم کس لئے کھانا نہیں کھاتے وہ کہتے تھے کیا خاک تمنائے غذا ہو اللّٰہ کرے جلد کہیں تم کو شفا ہو
شہ کہتے تھے صحت ہو نہ ہو کھانا تو کھالو نانا کے نواسو دلِ مضطر کو سنبھالو
چلاتی تھی زہرا کہ نہ یہ ذکر نکالو
بابا میرے فرزندوں کو دولھا تو بنا لو
آرمان تھا تم کو تو نواسوں کی دلھن کا کیا بیاہ نہ دیکھو گے حسین اور حسن کا اک آہ کی رونے لگے اور غش ہوئے مولا
دروازہ سے ناگاه صدا یہ ہوئی پیدا
دو اِذن حضور ائے حرمِ سید والا
جا کر کہا زہرا نے کے بے ہوش ہیں بابا پھر آئی ندا پھر وہی فرما گئی زہرا پر تیسری آواز میں تھرا گئی زہرا
فرصت جو ہوئی غش سے تو حضرت نے بھی پوچھا
زہرا نے کہا ایک عرب آیا ہے تنہا وہ مانگتا ہے اذن حضور ائے مرے بابا کتنا ہی کیا عذر نہیں اُس کو پذیرا
حضرت نے کہا یہ ملکُ الموت ہے زہرا ہنگام مری زیست کا اب فوت ہے زہرا یہ اِذن کسی سے بھی نہیں مانگتا واللّٰہ پر ہاں مرے دروازے کے رتبہ سے ہے آگاہ اللّٰہ رے عزو شرفِ سیدِ زیجاه
بے حکم نہ گھر میں ملکُ الموت کو تھی راہ
پر کرب و بلا میں یہی گھر تھا یہی در تھا کفار کا انبوہ تھا آتش کا گزر تھا