Kanz e Aza

ائے کفیلِ نبی ابو طالب

A marsiya. Lyrics in Urdu.

ائے کفیلِ نبی ابو طالب

سیّدِ ہاشمی ابوطالب

دین کی زندگی ابوطالب

جان ایمان کی ابوطالب

آمینہ کے ہے پھول کو پالا تو نے رب کے رسول کو پالا

بارہ فرزند تیرے ہیں جو امام

جن سے جاری ہے حق رسی کا نظام تیرا آغاز بھی ہے خوش انجام تجھ کو کہتے ہیں محسنِ اسلام

جاری حق کا سبق تجھی سے ہے

حق تو یہ ہے کہ حق تجھی سے ہے وہ جو قرآں کی آیت سے پہلی

جو کہ قبلِ رسول تو نے پڑھی ہے دلیل ایک تیسرے ایماں کی تیرا الحمد لِلّٰہ کہنا بھی روحِ ایماں بنے تیرے جملے

آیتوں میں ڈھلے ترے جملے نعَت گوئی کے خالق و بانی

ذات تیری ہے ذاتِ عرفانی تجھ سے ظاہر ہے خوۓ ایمانی کُلِّ ایمان ہے ترا جانی نیک سیرت ہے نیک بخت ہے تو کلمہ گویوں کا سر پرست ہے تو لوگ بارش کی تھے دُعا کرتے تیرے اشعار کے وسیلے سے کبریائی صفات تھے تیرے

جاری ہیں تیرے فیض کے چشمے

آبِ باراں کے حق میں حیلہ ہے کِتنا محکم تیرا وسیلہ ہے تجھ سے کھاتے تھے خوف بائی شر تیرا ڈر تھا لعینوں کے اوپر

بُو لہب بُوجہل سے طاقت ور کانپ جاتے تھے نام کو سُن کر کفر کا زور کچھ دکھَا نہ سکے وہ مُحمّد پہ ہاتھ اُٹھا نہ سکے تھا اُنھیں یوں رسول پر غصّہ

بُت پرستی پہ کیوں کیا حملہ کیوں کہا ایک ہے خدا سب کا کیوں پڑھا لا اِلٰهَ اِلا اللّٰه ایک دِل مشرکینِ مکّہ تھے

دَر پۂ جاں نبی کے اِعداء تھے

چاہتے تھے مٹادیں نامِ نبیؐ کوشِش اُن کی تھی ہر قدم پہ یہی تو نے جِس دم نبی کی لی پُشتی کَھل گئی اُن کو یہ ادا تیری اُس حمایت کا بدلہ لیتے ہیں

دُکھ تجھے آج بھی وہ دیتے ہیں تجھ پہ الزام کُفر کا دھرنا ہے سقیفائی ایک منسوبہ تہمتوں کے سہارے پر اعدا

آج تک بھی ہیں در پۂ ایذاء

خون میں اُن کے جو نجاست ہے

دل میں اُن کے تری عداوت ہے تیرے دشمن ہیں نسلِ بے تحقیق ہو چکی جن کے جھوٹ کی تصدیق

دین میں گُھس گئے تھے کچھ زندیق کوئی فاروق اور کوئی صدیق لعنتیں اُن پہ بھیجا کرتے ہیں مومن اُن پہ تبَرّا کرتے ہیں تیرات سایہ جو اُٹھ گیا آقا ہو گئے خود رسول بے سایہ میرا بابا مرا چچا نہ رھا کہتے ہیں رو کے یہ رسول خدا کیا مصیبت نبی پہ آئی ہے

شاق دل پر تری جدائی ہے

دل سے ہو کر ملول روتے ہیں

باغِ زہرا کے پھول روتے ہیں

با صفَاء با اُصول روتے ہیں تیرے غم میں رسول روتے ہیں تیرا احساں نبھا رہے ہیں نبی تیری میّت اُٹھا رہے ہیں نبی کوئی ہمدرد تجھ سا اب نہ رہا

غم سے بے حال ہیں رسولِ خدا ہے دیگر حال غم سے مولا کا اُٹھ گیا سر سے باپ کا سایا

آج حق کے ولی یتیم ہوئے ہائے مولا علی یتیم ہوئے روئے غم میں ترے رسولِ خدا اپنے ہاتھوں سے تجھ کو کفنایا تیرے تابوت کو دیا کاندھا تیرا کس شان سے جناز اُٹھا

جب سواری مکان سے اُٹھّی تیری میّت بھی شان سے اُٹھی

چوٹ غم کی جو دل پہ ہے کھائی کربلا نے ہے شکل دکھلائی

غمِ سرور کی ہے فضاء چھائی

بیکسیٔ حسین یاد آئی

قلب زہرا کے چین کا لاشہ

بے کفن تھا حسین کا لاشہ