ائے مومنو حسین پہ شدت کی پیاس ہے
جنگل میں فاطمہ کا پسر بے حواس ہے یاور نہ کوئی ہے نہ کوئی بھائی پاس ہے لاشے اُٹھا کے لانے سے مولا اُداس ہے
ِلو چل رہی تھی پیاس تھی وقت زوال تھا
بے چین رن میں دھوپ سے زہرا کا لال تھا ائے مومنو خیال کرو دل میں تم ذرا وہ پیاس اور وہ زخم وہ صحرائے کربلا وہ سامنے کی دھوپ وہ زخموں کا منہ کھلا
وہ لو سے پھٹنا زخموں کا وہ درد وہ جفا کیا دکھ اُٹھائے فاطمہ کے نورِ عین نے
آفت سہی تمہارے لئے یہ حسین نے اعدا سے کہہ رہے تھے یہ مولا غریب ہوں اللّہ کے حبیب کا یارو حبیب ہوں اک دم میں دم نکلتا ہے اب عنقریب ہوں
زخمی ہوں بے گناہ ہوں آفت نصیب ہوں
تم جس کے کلمہ گو ہو میں اُس کا نواسہ ہوں پانی پلا کے ذبح کرو یارو پیاسا ہوں کہتے تھے یہ حسین کہ اک زلزلہ ہوا
ساتوں طبق زمیں کے ہلے آسماں ہلا ناگاہ آئی فاطمہ زہرا کی یہ صدا وقتِ نمازِ عصر بھی نزدیک آ گیا
طفلی میں جو کیا تھا وہ وعدہ وفا کرو
جھک کر حسین شکر کا سجدہ ادا کرو
جس دم سنی حسین نے زہرا کی یہ صدا
خوفِ خدا سے کانپ گئے سر سے تا بہ پا
غش کھا کے فرشِ زیں سے گرے وامصیبتا ہر زخم سے نکلنے لگی شکر کی صدا
سجدے میں سر تھا دھیان تھا اُس کارساز پر روتے تھے شاہ سر دھرے خاکِ نیاز پر اُس دم عمر نے دور سے دیکھا یہ ماجرا
شمرِ لعیں کو پاس بلا کر یہ تب کہا
سبطِ رسول خاک پہ بے ہوش ہے پڑا کیا دیکھتا ہے وقت پھر ایسا نہ آئیگا
زخموں سے چور ہے تنِ اطہر حسین کا
ہاں جلد جا کے کاٹ لے اب سر حسین کا یہ مُژدہ سُن کے آگیا لالچ میں وہ لعیں
خنجر پکڑ کے آیا قریبِ امامِ دیں
چھاتی پہ پاؤں رکھ کے چڑھائی جو آستیں تب نورِ چشم فاطمہ نے آنکھیں کھول دیں
دیکھا تو کوئی دوست ہے نے غمگسار ہے
خنجر گلے پہ سینہ پہ قاتل سوار ہے
فرمایا شہ نے کون ہے تو ائے ستم شعار کیوں میرے زخمی سینے پہ آکر ہوا سوار
خنجر میرے گلے پہ جو رکھتا ہے بار بار
سمجھا ہے کس خطا پہ مجھے تو گناہ گار
دیتا ہے رنج روحِ رسالت پناہ کو کیوں ذبح کرنے آیا ہے مجھ بے گناہ کو
اس پر بھی کچھ نہ دل میں لعین کے اثر ہوا
خنجر سے کاٹنے لگا مظلوم کا گلا اُس وقت آئی فاطمہ زہرا کی یہ صدا
ائے شمر میرا لال ہے بے جرم و بے خطا یہ ظلم مصطفےٰ کے نواسے کے حلق پر
خنجر نہ پھیر بھوکے کے پیاسے کے حلق پر میں نے بڑے دکھوں سے ہے پالا حسین کو ناحق تو ذبح کرتا ہے پیاسا حسین کو لِلّہ نہ زیرِ تیغ تو تڑپا حسین کو پھٹتے ہیں زخم ہوتی ہے ایذا حسین کو
ظالم کلیجہ پھٹتا ہے مجھ دِل ملول کا
بچے کو میرے چھوڑ دے صدقہ رسول کا