ابنِ علی جو باغِ رسالت لُٹا چکا
بھائی کی اور باپ کی دولت لُٹا چکا پونچی حرم کی اپنی بضاعت لُٹا چکا
سب کچھ برائے بخششِ اُمت لُٹا چکا
باقی کوئی شہیدوں کے دفتر میں اب نہیں
جُز عابدِ مریض کوئی گھر میں اب نہیں تنہا کھڑے تھے فوج میں شاہِ فلک وقار
جو آئی چار سمت سے پھر فوجِ بد شعار
دیکھا کہ ہے نیام میں حیدر کی ذوالفقار
جُراءت ہوئی ہر ایک کو بڑھ کر لگائے وار یادِ خدا میں شاہ نے سب کو بھلا دیا
جب زخم کھایا شکر کیا مسکرا دیا
ٹکڑے ہوا جبیں سے کمر تک تنِ امام گھبرا گیا فرس تو یہ بولے شۂ انام ائے ذوالجناح یاں سے ہٹانا نہ ایک گام
اب جنگ بھی تمام ہے اور ہم بھی ہے تمام گھیرے ہوئے ہے فوج اجل سدِ راہ ہے
جائیگا اب کہاں کہ یہی قتل گاہ ہے
ِمُضطر نہ ہو لگیں تو لگیں ناوک ستم کچھ غم نہیں جو پڑتی ہیں تلواریں دم بدم
ماریں نہ دم جو تن سے ہو سو بار سر قلم راحت یہ دکھ سمجھتے ہیں راہِ خدا میں ہم پیدا ہوئے ہیں درد و مصیبت کے واسطے یہ سب قبول ہیں ہمیں اُمت کے واسطے
مجھکو نہ قتل ہونے کا غم ہے نہ کچھ ملال
گھر کی ہے اب نہ فکر نہ بچوں کا ہے خیال
جانا قریب ہے سوئے دربار ذوالجلال یہ فکر ہے کہ دیکھئے ہوتا ہے کیا مآل مُرسل بھی تھر تھراتے ہیں اِس بارگاہ میں
سر نذر لے کے جاؤں جنابِ اِلہ میں
یہ کہتے تھے کہ سر پہ لگی تیغ آب دار نیزہ سناں کا ہوگیا سینے کے آر پار گرنے لگے جو زیں سے امامِ فلک وقار
بیٹھا زمیں پہ ٹیک کے گھٹنوں کو راہوار
غش میں جگر پکڑ کے بدردو الم گرے
سنبھلا گیا نہ خاک پہ شاہِ اُمم گرے
دی بڑھ کے پیک نے پسرِ سعد کو خبر گھوڑے سے گر پڑا اَسد اللّٰہ کا پسر
بشاش ہو کے شمر سے بولا وہ خیرہ سر
جا جلد جا نبی کے نواسے کو قتل کر
غُل ہو دِلاوری کا تیری شہر شہر میں
خنجر وہ کھینچ لے جو بجھایا ہو زہر میں
خنجر پکڑ کے شمر چلا آستیں چڑھائے
بولا یہ ابنِ سعد کہ خولی بھی ساتھ جائے
دونوں لعیں جو لاشۂ سرور کے پاس آئے پہلو سے فاطمہ نے صدا دی کے ہائے ہائے
خنجر لئے ہوئے ستم ایجاد آئے ہیں
چونکو حسین ذبح کو جلاد آئے ہیں روحِ جنابِ فاطمہ زہرا نے دی صدا
صدقے میں ان لبوں کے اس آواز پر فدا اس کا نہیں خیال کہ کٹتا ہے اب گلا یہ صبر مرحبا مرے مظلوم مرحبا
ٹکڑے ہے جسم پیاس سے ہونٹوں پہ جان ہے اے لال مرتے وقت بھی اُمت کا دھیان ہے کیوں کر کہوں تطاولِ شمرِ ستم شعار پیاسے گلے پہ شہ کے رکھی تیغِ آب دار گھر سے اُدھر نکل پڑی زینب جگر فگار
چلائی منہ نجف کی طرف کر کے ایکبار
حلقِ حسین کٹتا ہے خنجر کی دھار سے یا مرتضی علی نکل آؤ مزار سے یا شیرِ کردگار اُلٹ دو جہان کو
فریاد سے ہلا دو زمیں آسمان کو کرتے ہیں ذبح اہلِ ستم میہمان کو یا مصطفےٰ بچالو میرے بھائی جان کو
شمشیر چلنے پائے نہ پیاسے کے حلق پر رکھ دیجے حلق اپنا نواسے کے حلق پر یہ کہہ کہ سوئے مقتلِ شاہِ امم چلی منہ اپنا پیٹتی ہوئی با درد و غم چلی اُٹھ کر کبھی گری تو کبھی دو قدم چلی اور واں گلوئے شاہ پہ تیغِ دو دم چلی پہنچی تو خاتمہ تھا شۂ مشرقین کا
شمرِ لعیں کے ہاتھ میں تھا سر حسین کا