حیدر بخدا عقدہ کشائے دوسرا ہے کمزوروں کی طاقت ہے ضعیفوں کا عصا ہے مردوں کا مسیحا ہے مریضوں کی دوا ہے واللّہ حدیثوں کی کتابوں میں لکھا ہے
آغاز میں اعجازِ امامت کی ثناء ہے انجام میں اب خاتمٔہ شیرِ خدا ہے وارد ہوئی ناگاہ شبِ ضربتِ حیدر
بس کھولتے ہی روزہ کمر باندھی اجل پر
اس شب تھے کبھی صحن میں گہ حجرے کے اندر ہمسایہ کو ہر بار ندا دیتے تھے رو کر
حیدر کی سواری سوئے فردوس چلی ہے
جاگو یہ شبِ قدر شبِ قتلِ علی ہے واللّہ میں دو راتوں کا مہماں ہوں تمہارا
ِتر دیکھو گے کل خون سے ریشِ رخِ زیبا
برسے گا لہو تین دن افلاک سے ہر جا ائے صاحبو اِس سال علی حج میں نہ ہوگا
تم عید کے دن رؤو گے شبر سے لپٹ کر روئے گا حسن باپ کے منبر سے لپٹ کر کلثوم نے روکر کہا وا حسرت و دردا کیا بیٹیاں اب صبر کریں آپکو بابا کس طرح یقیں تم کو ہوا اپنی اجل کا
فرمایا جو اِرشادِ پیمبر ہے وہ ہوگا
دو روز ہے دنیا میں بس اب قوت ہمارا اکیسویں کو اُٹھے گا تابوت ہمارا
ہر گھر میں صدا ہوے گی کل ہائے علی کی کل روتی ہوئی آئیگی یاں روح نبی کی
حالت میرے غم میں نہ بجا ہوگی کسی کی کل آئے گی یاں لاش پیمبر کے وصی کی
کل شیعہ بھی سر کھولیں گے اور اہلِ حرم بھی
زہرا کی صدا آئی کفن پھاڑیں گے ہم بھی
زنیب سے روایت ہے کہ تھی چار گھڑی رات
ِمشتاقِ قضا گھر سے چلے سید خوش ذات تسبیح بکف جمع ہوئے ڈیوڑھی پہ سادات
واں شہ نے اذاں دی یہاں کی سب نے مناجات گلدستہ ہو حیدر سے سرافراز ہمیشہ یا رب رہے دنیا میں یہ آواز ہمیشہ پھر بعدِ اذاں کان میں آواز یہ آئی اے شیعو علی قتل ہوئے حق کی دہائی اِس نوحے سے آگاہ ہوئی ساری خدائی
چہروں پہ نبی زادیوں نے خاک اڑائی
جنت سے نبی پھاڑ کے دامانِ کفن آئے
سر پیٹتے مسجد میں حسین اور حسن آئے
بابا کا لہو پہلے تو چہروں پہ لگایا پھر دونوں نے ما بینِ گلیم انکو اٹھایا لے کر جو چلے رونا علی کو بہت آیا
شبیر نے پوچھا تو یہ حیدر نے سنایا رونا یہ ہے جب حلق تو کٹوائیگا پیارے کوئی تیرا لاشہ نہ اُٹھا لائیگا پیارے
سب روتے ہوئے دوڑے کہ لاشہ وہیں آیا
حجرے میں ید اللّہ کو مسند پہ لٹایا
عباس کو عباس کی مادر نے بلایا
صدقے کی طرح گردِ علی اسکو پھرایا
اور بولی کہ یا رب میرے والی کو شفا دے
صدقہ یہ پسر دیتی ہوں وارث کو بچالے
تھرا کے علی نے کہا غصے سے یہ اُس آں ہاں تھام زباں اپنی کدھر کو ہے تیرا دھیاں
عباس پہ تو صدقے میں عباس پہ قرباں
عباس کی تو کون ہے یہ فاطمہ کی جاں
بی بی کہیں زہرا کا عتاب آئے نہ تجھ پر
شبیر کے فدیہ کو فدا کرتی ہے مجھ پر پھر شام کو افطار جو کرنے لگے مولا اک ساغرِ شیر آپ نے قاتل کو بھی بھیجا
ضربِ دمِ شمشیر کا بدلہ تھا یہ گویا اُس نے نہ پیا پھیر دیا بولے یہ آقا کہدو ارے خوش ہو تیرا زخمی نہ جیئے گا پوچھ آؤ میرے ہاتھ سے شربت تو پٔے گا پھر بولے کہ پردہ کرو قاتل کو بلاؤ ہاں کھول کے مشکیں میرے آگے اُسے لاؤ
شربت کے بھی اور دودھ کے کوزے بھی بناؤ
جو میوے کہ تحفے سے ہو تحفہ وہ منگاؤ اِس دم کوئی سمجھے نہ حقیر اُسکو نظر میں
قاتل کی ضیافت ہے یداللّہ کے گھر میں