رن میں جب شہ کی طرف سے حُرِ دیندار آیا کس بشاشت سے اُڑاتا ہوا رہوار آیا
غل ہوا سیدِ مظلوم کا غمخوار آیا
جاں نثارِ خلفِ حیدرِ کرار آیا تتقِ نور سرِ راہ نظر آتا ہے
جلوۂ قدرتِ اللّہ نظر آتا ہے
ِیہ سخن سن کے پکارا پسرِ سعد شریر ہاں طرفدارِ شہ دیں پہ چلے نیزہ و تیر لے کے حربوں کو بڑھا فوج کا انبوہ کثیر
فاتحہ پڑھ کے جواں مرد نے کھینچی شمشیر
حُر کا منھ سُرخ ہوا فوجِ ستم زرد ہوئی
شعلۂ تیغ سے بجلی کی چمک گرد ہوئی
بڑھ کے فرماتے تھے عباس زہے عزت و جاہ
بارک اللّہ کی دیتا تھا صدا دلبرِ شاہ کہتے تھے ابنِ حسن واہ حُرِ غازی واہ
شاہ ہر ضرب پہ فرماتے تھے ماشااللّہ اپنی جاں بازی کا غازی جو صلہ پاتا تھا مسکراتا ہوا تسلیم کو جھک جاتا تھا
حیف جھکنے میں لعینوں نے جو فرصت پائی
سامنا چھوڑ کے سب فوج عقب سے آئی لاکھ خوں ریز اُدھر اور اِدھر تنہائی
باگ گھوڑے کی پھراتا تھا کہ برچھی کھائی
آگیا موت کے پنجے میں نہ کچھ دیر لگی
فرق پر گرز لگا دوش پہ شمشیر لگی
سینہ غربال ہوا تیر چلے اعداء کے رکھدیا شیر نے قربوز پہ سر نیوڑا کے
علی اکبر نے یہ حضرت سے کہا چلا کے گر ہو ارشاد تو مہماں کو بچاؤں جا کے
خادمِ حضرتِ زہرا و علی گرتا ہے
خاک پر اب وہ سعیدِ از لی گرتا ہے
شاہ رونے لگے یہ سنتے ہی مہماں کی خبر ہوگئی آنسوؤں سے ریشِ مبارک سب تر
علی اکبر سے کہا تم ابھی ٹہرو دلبر
حُر کی امداد کو ہم جائینگے اے نورِ نظر
کس سے اِس وقت کہوں میں جو قلق مجھ پر ہے
لاش اُٹھاؤں گا کہ مہمان کا حق مجھ پر ہے
ِیہ سخن کہہ کے چلے ان کو جناب شبیر واں گرا خاک پہ گھوڑے سے حُر با توقیر
دیکھ کر شاہ کو آتے ہوئے بھاگے بے پیر
ِپہنچے لاشے پہ امامِ دو جہاں وقت اخیر
چمنِ ہستیٔ میہماں کو اُجڑتے دیکھا
خاک پر ایڑیاں زخمی کو رگڑتے دیکھا گر کے لاشے کے برابر یہ پکارے سرور میرے میہماں و مددگار و معین و یاور گُرز کیا تجھ کو لگا ٹوٹ گئی میری کمر
گر پڑے گھوڑے سے اور آہ نہ کی ہمکو خبر
دوست کے ہجر میں کب دوست کو چین آیا ہے کھولدے چشم کو بھائی کہ حسین آیا ہے نیم وا چشم سے حُر نے رخِ مولا دیکھا
زیرِ سر زانوئے شبیر کا تکیہ دیکھا مسکرا کر طرفِ عالمِ بالا دیکھا
شہ نے فرمایا کہ ائے حُرِ جری کیا دیکھا
عرض کی حُسنِ رُخِ حور نظر آتا ہے
فرش سے عرش تلک نور نظر آتا ہے مجھ کو لینے چلے آتے ہیں فرشتے یا شاہ ملک الموت بھی کرتا ہے محبت کی نگاہ
خلد سے شیرِ خدا نکلے ہیں اللّہ اللّہ لو برآمد ہوئے شبر بھی پدر کے ہمراہ ننگے سر احمدِ مختار کی پیاری آئی
دیکھئے آپ کے نانا کی سواری آئی کہہ کے یہ گود میں شبیر کے لی انگڑائی
آیا ماتھے پہ عرق چہرے پہ زردی چھائی
شہ نے فرمایا ہمیں چھوڑ چلے کیوں بھائی
چل بسے حُرِ جری پھر نہ کچھ آواز آئی
طائرِ روح نے پرواز کی طوبا کی طرف پتلیاں رہ گئیں پھر کر شہ والا کی طرف رو کے اکبر نے کہا حُرِ دِلاور ہے ہے اے مددگارِ جگر بندِ پیمبر ہے ہے
خوں میں سب تر ہے ترا روئے منور ہے ہے تشنہ و بیکس و مظلوم کے یاور ہے ہے اِدھر آنا تھا کہ تیری اجل آئی بھائی گھر میں سادات کے دعوت بھی نہ کھائی بھائی