زخمی جو رن میں قاسمِ گل پیرہن ہوا پیدا شہانہ جوڑے سے رنگِ کفن ہوا
باغِ جناں رسول کو بیت الحزن ہوا
اور فوجِ کیں میں شاد ہر اک تیغ زن ہوا
غل تھا کے روند ڈالا ہے لشکر کے باغ کو ہاں غازیوں بجھا دو حسن کے چراغ کو گھبرا گئے یہ سن کے صدا سرورِ انام
آیا سوئے یتیمِ حسن موت کا پیام ہمشکلِ مصطفٰے کو بُلالو پکار کے مانگو دعا سروں سے عمامے اُتار کے یہ کہہ کے قبلہ رو ہوئے سلطانِ کائینات
درگاہِ کبریا میں دعا کی اُٹھا کے ہاتھ ائے خالقِ زمیں و زماں ربِ پاک ذات اِن ظالموں کے ہاتھ سے قاسم کو دے نجات تو حافظِ جہاں ہے کریم الرحیم ہے یا رَب بچا اِسے کہ یہ بچہ یتیم ہے
نِکلا یہ سب کے منھ سے کے ہے ہے حسن کے لال
زینب نے اُٹھ کے کھول دیئے اپنے سر کے بال
سینے میں ہل گیا دلِ بانوئے خوش خصال
چلائی ماں گزر گیا کیا میرا نونہال
عابد کا تپ سے گرم بدن سرد ہوگیا
قاسم کے چھوٹے بھائی کا منھ زرد ہو گیا
چلائی رو کے زوجۂ عباسِ نوجواں یارب ہے تو یتیمِ حسن کا نگاہباں
سن کر یہ غل دلہن کے بھی آنسو ہوئے رواں لیکر بلائیں ساس پکاری کہ میری جاں
خالق کریٔگا رحم نہ آہ و بکا کرو
دولہا پہ آ بنی ہے میں صدقے دعا کرو اِس اضطراب میں جو سنا ساس کا سخن
زانو سے سر اُٹھا کے ہوئی قبلہ رو دلہن
ِآہستہ کی یہ عرض کہ اے رب ذوالمینن
دشمن پہ فتحیاب ہو لختِ دلِ حسن لڑنے گئے ہیں تشنہ دہن تیری راہ میں رکھ میرے ابنِ عم کو تو اپنی پناہ میں
يا رب دلھن بنے مجھے گذری نہ ایک شب
دولھا جو مر گیا تو مجھے کیا کہیں گے سب
اب تک تو شرم سے نہ ہلائے تھے میں نے لب
پر کیا کہوں کہ اب ہے مری روح پر تعب
شبر کے آفتاب کا وقتِ غروب ہے
دولھا سے پہلے مجھ کو اُٹھا لے تو خوب ہے
سہرے کے پھول بھی ابھی سوکھے نہیں ہیں آہ
جو آگیا پیام رنڈاپے کا یا الہ
یہ عقد تھا کہ موت تھی ماتم تھا یا کہ بیاہ
بعد اِس کے ہو گا خلق میں کیونکر میرا نباہ اُٹھوں جہاں سے دلبرِ شبر کے سامنے
عورت کی موت خوب ہے شوہر کے سامنے
غش میں جھکا فرس پہ جو وہ غیرتِ قمر مارا کسی نے فرق پہ اک گرز تان کر
برچھی لگی جو شیث کی ٹکڑے ہوا جگر گرتے تھے اَسپ سے کہ کمر پر لگا تبر
طارق کی تیغ کھا کے پکارے امام کو
فریاد یا حسین بچالو غلام کو
جھپٹے جو شاہ فوج پہ چمکا کے ذوالفقار
بجلی گری یزید کے لشکر پہ ایک بار اِس غیظ میں یمیں سے جو آئے سوئے یسار
بھاگے پھرا کے گھوڑوں کی باگوں کو سب سوار
بھاگڑ میں خوں سے رن کی زمیں لال ہوگئی
دولھا کی لاش گھوڑوں سے پامال ہوگئی
دیکھا اِمام نے کہ رگڑتے ہیں ایڑیاں
سوکھے ہوئے لبوں پہ ہے اینٹھی ہوئی زباں
داماد سے لپٹ گئے حضرت بصد فغاں
بے جاں ہوا حسین کے آگے وہ نیم جاں
جب لاش اُٹھائی شہ نے تو چور استخوان تھے
سب چاند سے بدن پہ سموں کے نشان تھے لاشہ اُدھر سے لائے شہنشاہِ کربلا
دوڑے اِدھر سے پیٹتے ناموسِ مصطفٰی
فضہ تھی آگے آگے کھلے سر برہنہ پا
آئی جو صحن میں تو یہ بیوؤں کو دی صدا ہٹ جائیں جن سے دور کا ناتا ہے صاحبو
دولھا دلہن کے لینے کو آتا ہے صاحبو