زخمی سناں سے رن میں جو شہ کا پسر ہوا ہر سمت سے لعین ہر اک حملہ ور ہوا تر خون میں مُرقعٔ خُیر البشر ہوا
آخر جُدا عقاب سے وہ سیمبر ہوا مقتل میں کیا ہجوم تھا اُس نورِ عین پر پروانے گر رہے تھے چراغِ حسین پر
گرنا تھا بس کے سر پہ لگا گرز ہے ستم
یوں جھک گئے کہ ہوتے ہیں سجدے میں جیسے خم رکھدی گلے پہ شیث نے شمشیرِ تیز دم تلوار اک پڑی کے ہوئیں پسلیاں قلم
غل تھا کرو نہ رحم تنِ پاش پاش پر
دوڑا دو گھوڑے اکبر مہ رو کی لاش پر
حضرت کھڑے تھے خیمے کی تھامے ہوئے طناب
سُن کر یہ غل رہی نہ دلِ ناتواں کو تاب ناگاہ آئی رن سے صدا ائے فلک جناب
بیٹا جہاں سے جاتا ہے اب آئیے شتاب لاشے پہ ظلم و جور بد افعال کرتے ہیں گھوڑوں سے اہلِ کیں ہمیں پامال کرتے ہیں
سنکر یہ استغاثۂ فرزندِ خوشخحال
سید نے آہ کی کہ ہلا عرشِ ذوالجلال کھولے جنابِ فاطمہ کی بیٹیوں نے بال
بانو پکاری خیر تو ہے ائے علی کے لال ہے ہے پسر سے کونسی مادر بچھڑ گئی
صاحب بتاؤ کیا مری بستی اُجڑ گئی نیزے سے کس کے لال کا زخمی ہوا جگر کرتے ہیں کس کی لاش کو پامال اہلِ شر کہتا ہے کون رن میں تڑپ کر پدر پدر اب گھر سے میں نکلتی ہوں یا سید البشر پردہ نہ مجھ سے کیجئے سب جانتی ہوں میں
آواز یہ اُسی کی ہے پہچانتی ہوں میں
ِبانو کو قسمیں دے کے چلے شاہِ نامدار وہ پیاس اور وہ دھوپ وہ صدمہ وہ اضطرار
دل تھا اُلٹ پُلٹ تو کلیجہ تھا بے قرار اُٹھتے تھے اور زمین پہ گرتے تھے بار بار
چلاتے تھے شبیہہ پیمبر ہم آتے ہیں گھبرائیو نہ ائے علی اکبر ہم آتے ہیں
آؤں کدھر کو ائے علی اکبر جواب دو
چلا رہی ہے دیوڑھی پہ مادر جواب دو اکبر برائے خالقِ اکبر جواب دو
بیٹا جواب دو میرے دلبر جواب دو گرتے ہیں ہم ثواب کا ہاتھوں سے کام لو
بیٹا ضعیف باپ کے بازو کو تھام لو یہ سُن کے کھینچ لی شہ والا نے ذوالفقار
چمکی جو برق تیغ تو بھاگے ستم شعار
شہ کو نظر پڑا علی اکبر کا راہوار
چلائے اے عقاب کدھر ہے ترا سوار
دِکھلا دے مجھکو لاش میرے نورِعین کی کس دشت میں پڑی ہے بضاعت حسین کی
ِلاشِ پسر کو ڈھونڈھتے تھے شاہِ بحروبر
سر پیٹنے کی جا ہے کہ ہنستے تھے اہلِ شر کہتا تھا شمر ائے پسرِ سید البشر کس کو حضور ڈھونڈھتے ہیں مر گیا پسر
خود ڈھونڈھ لیجئے جسدِ پاش پاش کو
بتلائینگے نہ ہم علی اکبر کی لاش کو گھوڑے نے ہنہنا کے سوئے دشت کی نظر یعنی کے لاش آپ کے پیارے کی ہے اُدھر
جاتا تھا آگے آگے وہ تازی بچشم تر گھوڑے کے پیچھے جاتے تھے حضرت برہنہ سر
جنگل میں لاشۂ پسرِ نوجواں ملا وہ مہہ لقا ملا پہ مگر نیم جان ملا
ہچکی کے ساتھ کہتے ہیں وا کر کے چشمِ تر ائے جان جسمِ زار میں اک دم ذرا ٹہر ائے موت بے وطن کی جوانی پہ رحم کر ائے درد تھم ذرا کہ پھڑکتا ہے اب جگر پھر ایک بار سیدِ والا کو دیکھ لوں
مہلت بس اتنی دے کہ میں بابا کو دیکھ لوں
دشمن کو بھی نہ بیٹے کا لاشہ خدا دکھائے
حضرت زمیں پہ گر کے پکارے کے ہائے ہائے
زندہ رہے یہ پیر جواں یوں جہاں سے جائے ائے لال تین روز کے فاقے میں زخم کھائے
شائد جگر کے درد سے تم بے قرار ہو
زخمی تمھاری چھاتی پہ بابا نثار ہو کیوں کھینچتے ہو پاؤں کو اے میرے گلعزار کیوں ہاتھ اُٹھا اُٹھا کے پٹکتے ہو بار بار
آنکھیں تو کھول دو کہ میرا دل ہے بیقرار
بیٹا تمہاری ماں کو تمہارا ہے انتظار
بہنیں کھڑی ہیں در پہ تیرے اشتیاق میں اکبر تمہاری ماں نہ جیئے گی فراق میں
حضرت یہ کہتے تھے کہ چلا خلق سے پسر اتنی زباں ہلی کے خدا حافظ ائے پدر ہچکی جو آئی تھام لیا ہاتھوں سے جگر
انگڑائی لے کے رکھد یا شہ کے قدم پہ سر
آباد گھر لُٹا شہ والا کے سامنے
بیٹے کا دم نکل گیا بابا کے سامنے