Kanz e Aza

سُنا تھا جب سے کہ آتے ہیں سیدِ اکرم

A marsiya. Lyrics in Urdu.

وطن میں قافلۂ کربلا کی آمد ہے

سواریٔ حرمِ مصطفیٰ کی آمد ہے یتیمِ سرورِ گلگوں قبا کی آمد ہے

غریب و بیکس و بے آشنا کی آمد ہے تمام شہر ہے شائق علی کے پیاروں کا نبی کے روضہ پہ مجمع ہے دوست داروں کا

سُنا تھا جب سے کہ آتے ہیں سیدِ اکرم

خوشی سے فاطمہ صغرا کا تھا عجب عالم کبھی تو جھکتی تھی سجدے میں وہ بدیدۂ نم

کبھی یہ کہتی تھی کیوں نانی جان جی گئے ہم وطن میں آج شہ مشرقین آتے ہیں

چلو چلو میرے بابا حسین آتے ہیں اُٹھیں یہ سنتے ہی اُم البنیں بہ شوقِ تمام گئیں جو متصلِ روضۂ رسولِ انام

سُنا یہ شور کہ لو آئے شاہِ عرش مقام نظر وہ آتا ہے دیکھو نشانِ فوجِ امام

بڑے شکوہ سے حیدر کا یادگار آیا

علم لئے ہوئے عباسِ نامدار آیا یہ نوحہ پڑھتا تھا گھوڑے کے آگے آگے بشیر مدینہ لٹ گیا جنگل میں مر گئے شبیر گلے پہ دلبرِ زہرا کے چل گئی شمشیر کیا شہید غریبُ الوطن کو بے تقسیر

پڑا رہا جو زمیں پر یہ اُس کا جامہ ہے کفن ملا نہ جسے اُس کا یہ عمامہ ہے

بٹھا کے ناقہ کو سجادِ ناتواں اُترۓ

عصا کو تھام کے باچشمِ خوں فشاں اُترۓ

قریبِ مرقدِ سلطانِ انس و جاں اُترۓ اور اہلبیت یہ کرتے ہوئے فغاں اُترۓ ہوئی غریبوں پہ بیداد یا رسول اللّٰہ

حسین مر گئے فریاد یا رسول اللّٰہ ہوا جو روضہ میں داخل وہ قافلہ ناگاہ گرے مزارِ مبارک پہ عابد ذیجاہ

اُٹھا کے ہاتھ یہ فریاد کی بہ نالہ و آہ تباہی آگئی ہم بیکسوں پہ یا جداہ یتیم ہو کے یہ ناشاد کام آیا ہے پدر کو کھو کے وطن میں غلام آیا ہے

بڑا ستم کیا اُمت نے یا رسولِ زمن کیا حضور کے پیاروں کو ذبح تشنہ دہن رہا سِنا پہ سرِ پاک اور زمیں پہ بدن

لٹے ہم ایسے کہ بابا کو دے سکے نہ کفن

نہ دن کو تھی ہمیں راحت نہ چین راتوں کو

جکڑ دیا تھا رسن سے ہمارے ہاتھوں کو گئی لحد پہ پھر اس طرح زینبِ محزوں کہ ایک ہاتھ میں شہ کا عمامۂ پُر خوں اور ایک ہاتھ میں حضرت کا جامۂ گلگوں

زباں پہ مرثیہ جس کا یہ جانگزاں مضموں یزید نے ہمیں لوٹا دہائی ہے نانا

بہن شہید کے مجرے کو آئی ہے نانا ہوئی حسین کے مرنے سے در بدر زینب گئی یزید کی مجلس میں ننگے سر زینب کئی مہینے رہی قید نوحہ گر زینب یہ سخت جاں تھی کہ جیتی پھری اِدھر زینب ورم ہے شانوں پہ دکھتے ہیں استخواں نانا یہ میرۓ بازو پہ رسی کے ہیں نشاں نانا