شاہِ والا نے شہادت کا سر انجام کیا
سر کٹا ظلم سہے حق کا مگر کام کیا
صبر نے عابدِ بیمار کے اتمام کیا
باپ اور بیٹے نے اسلام کو اسلام کیا وعدہ طفلی کا جو شبیر وفا کرتے ہیں
حق یہ فرزندیٔ سرور کا ادا کرتے ہیں کون معصوم ہوا طوق و سلاسل میں اسیر کون ہے وہ جسے پہنائی ہو دہری زنجیر تازیانوں سے عدو دیتے تھے کس کو تعزیر
کس کے ماں بہنوں کی مجمع میں ہوئی ہے تشہیر
طئے کوئی کر نہ سکا جس کو یہ وہ منزل ہے
صبر ناموس کے بارے میں بہت مشکل ہے کر گئے تھے جو وصیت شہ دیں وقتِ اخیر
صبر سے کام لیا کیجئے بعدِ شبیر
شکر کرنا جو پنہائے تمھیں بھاری زنجیر
بددعا دینا نہ اُمت کو جو زینب ہو اسیر تم جو بگڑوگے تو خالق کا غضب آئیگا کام جو میں نے بنایا ہے بگڑ جائیگا
طوق پہنانے کو لاتا ہے جو وہ بد انجام
خود بڑھا دیتے ہیں گردن کو شہنشاہِ انام یہ تحمل ہے اِسے شانِ وفا کہتے ہیں کہنے والے اِسے تسلیم و رضا کہتے ہیں
باپ کی لاش پہ وہ ظلم ہوا کچھ نہ کہا
چِھن گئی ثانیٔ زہرا کی ردا کچھ نہ کہا
بازو ناموس کا رسی میں بندھا کچھ نہ کہا تازیانوں کی سہی سخت جفا کچھ نہ کہا
غم سے مادر کا جگر سینے میں پٹھتے دیکھا
علی اصغر کا گلا قبر میں کٹتے دیکھا
سر برہنہ سرِ دربار گئے صبر کیا
در بدر کوچہ و بازار گئے صبر کیا
قدرتیں رکھ کے گرفتار گئے صبر کیا
بے دوا قید میں بیمار گئے صبر کیا
قدر بابا کی وصیت کی دِکھائی تو نے
قبر ہاتھوں سے سکینہ کی بنائی تو نے یاعلی دیکھ لو پوتے کی مصیبت دیکھو
غم و اندوہ کی تصویر ہے صورت دیکھو
شدتِ تپ سے غضب کی ہے نقاہت دیکھو
طوق پھر اُس پہ گلے میں یہ قیامت دیکھو وقفِ آلام ہیں حضرت کے گھرانے والے کیا ستم سہتے ہیں اُمت کے بچانے والے ہائے جیتے ہیں تیری قبر مٹانے والے
خلد میں احمدِ مُرسل کو رُلانے والے
چشمِ انصاف سے دیکھیں تو زمانے والے کیسے ہوتے ہیں محمد کے گھرانے والے
زہر پیتے ہیں گلا تیغ سے کٹواتے ہیں
قبر میں جاکے بھی آرام نہیں پاتے ہیں