Kanz e Aza

شہید سے کوئی شمشیر کا مزہ پوچھے

A marsiya. Lyrics in Urdu.

شہید سے کوئی شمشیر کا مزہ پوچھے مریض سے کوئی اکسیر کا مزہ پوچھے اَسیر سے کوئی زنجیر کا مزہ پوچھے یتیم سے کوئی دلگیر کا مزہ پوچھے

ہر اک پہ گزرا زمانے میں رنج و غم ہےہے

سہا نہ عابدِ بیمار سا الم ہےہے

شہید ہوتے ہوئے باپ کو پسر دیکھے اَنی پہ نیزے کی ہے ہے سرِ پدر دیکھے

جوان بھائی کا نکلا ہوا جگر دیکھے پھوپی کو آنکھوں سے بلوہ میں ننگے سر دیکھے کسی نبی پہ نہ اس طرح کے الم گزرے

جو اِس مریض پہ ہر طرح کے ستم گزرے

شدید تپ میں وہ کانٹوں پہ چلنا عابد کا پہن کے بیڑیاں ہر اک قدم پہ گر پڑنا وہ ظلم و جورِ ستمگر حرم کا شورِ بکا وہ جسمِ لاغرِ عابد وہ دھوپ وہ درا

سوائے شکرِ خدا کچھ نہ کہتے تھے سجاد

دعائے اُمتِ عاصی میں رہتے تھے سجاد پھرایا کانٹو پہ سجاد کوبرہنہ پا نبی کے کنبہ کو بلوے میں لے گئے اعدا

جلایا خیمۂ ناموسِ سیدِ ذیجاه پھرا کے بلوے میں زنداں میں قید کر ڈالا تماشہ دیکھنے سب اہلِ شام آتے تھے

حیا سے اہلِ حرم گردنیں جھکاتے تھے

ستم کے بعد ہوا قید سے جو چٹکارا لعیں سے باپ کا سر اس یتیم نے مانگا

سرِحسین خزانے سے ہند نے بھیجا

سوار اونٹوں پہ کنبہ ہوا پیمبر کا لحد میں لاش غریبوں کی ہائے دھر نے چلے مہہ بتول کو پیوند خاک کرنے چلے

جو پہنچے کرب و بلا عابدِ اسیرِ بلا پدر کو دیکے کفن خاک میں رکھا لاشہ لپٹ کے قبر سے چلائے یوں کہ ائے بابا وطن کو جاتا ہوں لو آخری مرا مجرا وطن سے آیا تھا کس شان سے یہاں ہےہے

لُٹا کے گھر کو میں جاتا ہوں نیم جاں ہےہے لکھا ہے یوں کہ وطن آئے جب شہ والا پدر کی یاد میں ہر وقت کرتے تھے نالا نظر جو آتا تھا پانی تو روتے تھے مولا ہمیشہ آنکھوں میں پھرتا تھا دشتِ کرب و بلا پدر کے بعد بھی راحت ملی نہ عابد کو

دوبارہ قید کیا اُس غریب زاہد کو

وطن سے لے گئے پھر قید کر کے بانیٔ شر ہوئی بھتیجے کے ہمراہ زینبِ مضطر

قریبِ شام جو پہونچے وہ دونوں نوحہ گر لگایا بیلچہ زینب کی پشت کے اوپر

سفر میں زینبِ بیکس سے چھٹ گئے سجاد

دیارِ شام میں پھر آکے لٹ گئے سجاد پھوپی کو سونپ کے جنگل میں سید والا مدینہ میں ہوا داخل وہ بیکس و تنہا ولید شام کے حاکم نے زہر بھجوایا

وہ سم کے کھاتے ہیں عابد نے کی جہاں سے قضا

فلک پہ حور و ملک عرش کو ہلانے لگے

زمیں پہ جن و بشر سر پہ خاک اُڑانے لگے محبو داغِ الم دل پہ دھر گئے سجاد

جو کھایا زہر تو صد حیف مر گئے سجاد نبی کی آل کو بے آس کر گئے سجاد یتیم ہو گئے باقر گزر گئے سجاد

سر اپنا پیٹتے مرقد سے مصطفٰے نکلے کلیجہ تھام کے کیونکر نہ فاطمہ نکلے

چراغِ دینِ نبی آج بجھ گیا یا رب نشانِ پنجتنِ پاک مٹ گیا یا رب اٹھا جہان سے سرتاج اب مرا یا رب

خطاب بیوۂ عابد مجھے ملا يا رب کروں میں کیا مری قسمت بگڑ گئی یا رب

چمن میں فاطمہ کے اوس پڑ گئی یا رب

خدا کے عرش کا تارا گذر گیا لوگو

غضب ہے شاہ ہمارا گذر گیا لوگو وہ بیکسوں کا سہارا گذر گیا لوگو

حسن حسین کا پیارا گذر گیا لوگو مدینہ لٹ گیا یا مصطفےٰ دھائی ہے نجف اُجڑ گیا یا مرتضیٰ دھائی ہے