Kanz e Aza

شہرہ جہان میں حسنِ عسکری کا ہے

A marsiya. Lyrics in Urdu.

شہرہ جہان میں حسنِ عسکری کا ہے نقشہ نگیں یہ عرش کی انگشتری کا ہے کونین میں یہ گل چمنِ حیدری کا ہے

دُرِ یتیم معدنِ پیغمبری کا ہے مظلومیت مثالِ جنابِ حسین ہے اور دبدبے میں فاتح بدر و حنین ہے پر معتمد نے قہر کیا وامصیبتا ایسے ولی کو زہر دیا وامصیبتا ایماں کے گھر کو لوٹ لیا وامصیبتا

خونِ جگر حرم نے پیا وامصیبتا پھاڑا کفن نبی نے علی ننگے سر ہوئے

بچپن میں ہائے مہدیٔ دیں بے پدر ہوئے اَرواحِ پنجتن کو ستایا ہزار حیف

جنت میں مصطفےٰ کو رُلایا ہزار حیف تربت سے فاطمہ کو اُٹھایا ہزار حیف

قبرِ شہ نجف کو بلایا ہزار حیف

غل سامرے میں ہوتا تھا جس وقت بین کا یاں کربلا میں ہلتا تھا مرقد حسین کا

حیراں تھے زائرانِ حسینی کہ کیا ہے آج کیوں زلزلے میں قبرِ شہ کربلا ہے آج محشر میانِ گنجِ شہیداں بپا ہے آج

آتی ہے یہ صدا ہمیں صدمہ بڑا ہے آج

زخمی بدن کو میرے عدو نے ہلا دیا پوتے کو میرے زہرِ ہلاہل پلا دیا

حیرت ہے کیوں زمیں پہ نہ عرشِ عُلا گرا اِس ظلم سے عمامۂ مشکلکشا گرا

عباسیوں پہ کیوں نہ فلک جابجا گرا

بالائے خاک تاجِ رسولِ خدا گرا

سر اپنا کھولے سوگ میں آلِ رسول نے

جنت میں سر سے پھینک دی چادر بتول نے لکھا ہے جب امام ہوئے عازمِ جناں اک دفعہ سامرے میں قیامت ہوئی عیاں

دولت سرائے شاہ سے آنے لگی فغاں لو مومنو یتیم ہوئے صاحبُ الزماں

سر گرم ظلم چاروں طرف بد خصال ہیں اور حیف ہے کہ مہدیٔ دیں خوردسال ہیں

سایہ نہ باپ کا نہ کوئی بھائی ساتھ ہے

سر پر امامِ عصر کے بس حق کی ذات ہے اِس بے پدر کی سمت کسے اِلتفات ہے اب شرم اہلبیت کی زہرا کے ہاتھ ہے مردے کے گرد شور جو نوحہ کا ہوتا ہے معصوم پھوٹ پھوٹ کے بابا کو روتا ہے اب اِس طرح سے اہلِ خبر کرتے ہیں بیاں ماتم سرا میں بی بیاں کرتی تھی یہ فغاں نہلا چکے جو لاشۂ مولائے دوجہاں کفنایا اُس کو رختِ مُطہر کے درمیاں

آواز آئی فاطمہ کے شور و شین کی

سب شیعہ روئے بے کفنی پر حسین کی