Kanz e Aza

قید سے چھٹ کے آئی ہے زینب

A marsiya. Lyrics in Urdu.

قید سے چھٹ کے آئی ہے زینب

صدمے دل پر اُٹھائی ہے زینب

قبر شہ کی بنائی ہے زینب کچھ یتیموں کو لائی ہے زینب کہتی ہے رو کے لو خبر بھاںٔی

ختم اب ہو گیا سفر بھاںٔی میں ہوں زینب فلک ستائی ہوں تم سے ملنے یہاں میں آئی ہوں اور لٹے قافلہ کو لائی ہوں

بھائی کیا کیا ستم اُٹھائی ہوں

شام تک ننگے سر گئی زینب کیوں نہ پہلے ہی مرگئی زینب اُٹھ کے دیکھو تو اک نظر بھائی

ٹکڑے صدموں سے ہے جگر بھائی ہو گیا ہے سفید سر بھائی

جھک گئی ہے میری کمر بھائی وعدہ پورا میں کر کے آئی ہوں پشت پر تازیانے کھائی ہوں

سارے کنبے کو ساتھ لائی تھی محنتوں سے یہ گھر بسائی تھی میں نے دولت یہ ماں سے پائی تھی ہوگئی دفن جو کمائی تھی اب ہو کیونکر میری بسر بھائی ہائے کس منھ سے جاؤں گھر بھائی تھی مقدر میں میرے رُسوائی کیوں نہ دربار ہی میں موت آئی پیشِ حاکم گئی یہ دُکھ پائی

غصہ آیا تھا پی گئی بھائی

جو ہوئے ظلم سہہ گئی زینب

سب کے رونے کو رہ گئی زینب کیا بتاؤں جو گزرے رنج و محن

بازوؤں میں میرے بندھی تھی رسن تھے تماشائی سارے مرد و زن لٹ گئی لٹ گئی میں شاہِ زمن پھری بازارِ شام میں زینب گئی دربارِ عام میں زینب مجھ سے برگشتہ تھی میری تقدیر

خوب کی میری عزت و توقیر

سر سے چادر چھنی ہوئی تشہیر پھری بازار میں ، میں ہو کے اسیر اور بھی کچھ سناؤں کیا بھائی اپنے بازو دکھاؤں کیا بھائی

جب کیا ہمکو داخلِ زنداں نام کو بھی نہ روشنی تھی وہاں رو کے کہتی تھی یہ سکینہ جاں یاں سے لے کر چلو پھوپی اماں مجھ سے برداشت ہو نہیں سکتی میں اندھیرے میں سو نہیں سکتی مارتے تھے طمانچے بانیٔ شر کان سے اُس کے چھین کر گوہر ہو گیا تھا لہو میں کُرتا تر کیا کہوں اب کہ پھٹ رہا ہے جگر

شمر کی کھا کے سیلیاں بھائی مرگئی تیری نیم جاں بھائی