جب بعدِ عصر کٹ گیا رن میں سرِ امام لشکر سے ابنِ سعد یہ بولا بوقتِ شام منظور ہے ہمیں کہ یہیں آج ہو مقام ایک خیمہ ایستادہ حضورِ نگاہ ہو
شب باش اس میں آلِ رسالت پناہ ہو اک خیمہ تب علیحٰدہ رن میں بپا ہوا اس میں ہوئے مقیم اسیرانِ کربلا تقسیم فوجِ شام میں ہونے لگی غذا ہر قسم کے طعام مُہیا تھے جا بجا
آسائشِ طعام تھی ہر بد خصال کو اور فاقہ تیسرا تھا محمد کی آل کو
جی چاہتا ہے اب کہ مٹادیں ترا بھی نام ناحق تری صلاح سے کاٹا سرِ امام تجھ سے شقی کا ساتھ دیا آہ کیا کیا
سید کا ہم نے خون کیا آہ کیا کیا
وہ بولا کچھ کہو تو سہی میں نے کیا کیا
سب بولے متفق تجھے غارت کرے خدا اب کیا کرےگا نام نبی کا مِٹا دیا
باالغرض تجھ کو سبطِ پیمبر سے بغض تھا
سیدانیوں سے آب و غذا اب جو دور ہے
بیچاری بیبیوں کا بھلا کیا قصور ہے
بولا یہ ابنِ سعد کہ لیجاؤ تم شتاب
چالیس خوان کھانے کے اور سرد جامِ آب تب ایک ایک نے یہ عمر کو دیا جواب
کس منھ سے آگے جائیں ہمیں ان سے ہے حجاب پیاروں کو اُنکے سامنے نیزے لگائیں ہم اور حاضری بھی اُنکے لۓ لیکے جاںٔیں ہم
بولا عمر یہ شمر سے تو جا بہ انکسار
عباس کو تو آپ کا کہتا ہے رشتہ دار اُس نے کہا میں سب سے زیادہ ہوں شرمسار
زینب کے آگے سینۂ شہ پر ہوا سوار میں نے کیا شہید شۂ مشرقین کو میں نے طمانچے مارے یتیمِ حسین کو اِنکار جب کہ جانے میں اک ایک نے کیا پھر تو عمر نے زوجۂ حُر کو طلب کیا
بولا یہ کھانا لیکے تو اہلحرم میں جا کرنا مری طرف سے بہت عذر و التجا
شوہر ترا ہے فدیہ شۂ مشرقین کا
دینا تو شہر بانو کو پُرسہ حسین کا تھی آگے آگے زوجۂ حُر شہ کی دوستدار پر خیمۂ حرم کے جو در تک ہوا گزار کچھ روشنی بھی خیمہ میں پائی نہ زینہار
دیکھا کہ ایک بی بی ہے ڈیوڑھی پر بیقرار یہ بات کہہ کے ہوتی ہے مشغول آہ میں اصغر کو پہلی رات ہے یہ قتل گاہ میں
زینب پھر اپنے دل کو یہ دینے لگی خبر ان خوانوں میں یقیں ہے شہیدوں کے ہونگے سر ناگاه بولی زوجۂ حُر پاس آن کر لونڈی سلام کرتی ہے بی بی کرو نظر میں عاشقِ حسین کنیزِ بتول ہوں میں زوجۂ ہر اولِ سبطِ رسول ہوں
آیا زبانِ زوجۂ حُر پر جو حُر کا نام تعظیم کو کھڑی ہوئی وہ خواہرِ امام
بولی تو حُر کی زوجہ ہے تجھ پر مرا سلام
حق بخشے حُر کو واہ عجب کر گیا وہ کام پہلے خبر نہ تونے کی زہرا کی جائی کو
سر ننگے در پہ آتی تری پیشوائی کو یہ کہہ کہ اُس کو اپنے برابر بٹھا لیا
چادر نہ تھی جو ڈھانپ کے منھ روئی خوب سا
آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کے لگی رونے اور کہا
پُرسہ میں حُر کا دیتی ہوں تو ساتھ دے مرا
وہ رو کے بولی نام نہ لو اُس غلام کا میں تم کو دینے آئی ہوں پُرسہ امام کا
زینب نے روکے زوجۂ حُر سے یہ پھر کہا
بارے تمہارے آنے کا یاں کیا سبب ہوا کی عرض اُس نے لونڈی کی قسمت ہوئی رسا
بھیجے ہیں ابنِ سعد نے یہ خوان پُر غذا کہنے سے اس کے کھانے کے ہمراہ آئی ہوں میں حاضری حسین کے مرنے کی لائی ہوں