Kanz e Aza

مسلم پہ لعینوں کی چڑھائی ہے سحر سے

A marsiya. Lyrics in Urdu.

مسلم پہ لعینوں کی چڑھائی ہے سحر سے

طوعہ پہ قیامت غضب آئی ہے سحر سے اور اک تنِ تنہا سے لڑائی ہے سحر سے

دم لینے کی فرصت نہیں پائی ہے سحر سے مظلوم پہ اک نرغۂ افواجِ جفا ہے یاں دائرے میں نقطۂ انوارِ خدا ہے

ذی الحج کی نویں عرفہ کا دن قتل کا ساماں

پر عید یہ ہو آپ پہ ہوتا ہوں میں قرباں

شہزادوں کا اور شاہ کا اللّہ نگہباں کرتا ہوں رقیہ کی سفارش مگر اس آں

کڑھ کڑھ کے مرے غم میں نہ دم اُس کا نکل جائے

صدقے میں سکینہ کے رقیہ میری پل جائے

لکھا ہے نویں رات تھی ذی الحج کی بصد آہ مسلم نے کفن دھو کے معطر کیا ناگاہ

سر سجدے میں لب ذکر میں اور دل سوۓ اللّہ

جب آتی تھی طوعہ تو یہ کہتے تھے وہ زیجاہ

فردوس کی خنجر کے تلے دید کریں گے کل عرفہ کو قربانی کی ہم عید کریں گے القصہ سحر کو ہوئی اعدا کی چڑھائی

طوعہ کا مکاں گِھر گیا آفت نئی آئی

چلاتی تھی طوعہ کہ دھائی ہے دھائی کیوں کرتے ہو حیدر کے بھتیجے سے لڑائی

کیوں لڑنے کو سب آئے ہو یہ کس سے لڑا ہے

بیچارہ میرے حجرے میں فاقے سے پڑا ہے یہ سن کے برآمد ہوا وہ نائبِ شبیر

بادل کی طرح چھا گئے سب ظالم بے پیر ہاتھوں میں تلی برچھیاں چلوں سے ملے تیر پڑنے لگی مظلوم پہ شمشیر پہ شمشیر

دیوار پہ انبوہ تھا اور بام کے اوپر

بلوہ تھا عجب مسلمِ نا کام کے اوپر ناگاه لب و دنداں پہ لگا سنگِ جفا کار

خم ہو گئے اور منھ سے لہو ڈالا کئی بار

پر دبدبہ یہ تھا کہ نہ پاس آتے تھے کفار

آخر کو دغا کی یہ پکارے وہ ستمگار پھر لڑنا ذرا پوچھ لو بھائی کی خبر کو وہ ناقہ سوار آتا ہے کعبہ سے اِدھر کو مدت سے سنا تھا نہ جو حالِ شۂ والا یہ سنتے ہی بے ساختہ تلوار کو روکا

بس منھ کے پھراتے ہی اجل نے کیا مجرا

برچھی تو کلیجہ میں تھی برچھی میں کلیجہ منھ سوئے نجف کر کے کہا اپنے چچا سے مظلوم بھتیجے کو تیرے مارا دغا سے

یہ کہتے ہی غش ہو گئے گھوڑے سے گرے ہائے مظلوم کو ظالم درِ کوفہ سے اٹھا لائے مسلم پہ وہاں پیاس کا غلبہ ہوا ائے وائے

دروازے پہ پانی کے ظروف انکو نظر آئے

دربانوں کو دکھلا کے زباں بولا وہ پیاسا مہمان ہوں اور پیاسا ہوں پانی دو ذرا سا پھر طوعہ نے ہونٹوں سے لگایا جو پیالہ پینے جو لگے منہ سے لہو پانی میں ڈالا

دنداں بھی گرے جام بنا خون کا تھالا رو رو کے پکارے ملکِ عالمِ بالا اب ساقیٔ کوثر تمہیں سیراب کرئینگے پیاسے مرو شبیر بھی پیاسے ہی مرئینگے کعبہ سے اسی روز روانہ ہوئے تھے شاہ مسلم تو لبِ گور تھے شبیر سرِ راہ

جبریل نے کوفہ کی زمیں سے کہا نا گاہ ہاں حکمِ خدا ہے تو بلند اتنی ہو واللّہ مسلم شۂ مظلوم کی تصویر کو دیکھے

شبیر انہیں دیکھے وہ شبیر کو دیکھے کوفہ کی طرف شاہ نے چہرے کو پھرایا

سیدانیوں نے محملوں سے پردہ اُٹھایا اللّہ نے مسلم کا جمال اُن کو دکھا یا

بیٹھا ہوا تلوار کے نیچے نظر آیا

باہم تھی نگاہوں میں صدا ہائے اخی کی یاں فاطمہ روتی تھی وہاں روح علی کی

چہروں پہ طمانچے حرمِ شہ نے لگائے ملنے کے لئے ہاتھ رقیہ نے بڑھائے

چلائی کے لو اماں وہ بابا نظر آئے

سب کہتے تھے بابا نے وہاں شہر بسائے نے فرش ہے نہ سایۂ دیوار کے نیچے

بابا تو میرے بیٹھے ہیں تلوار کے نیچے کیا روتے ہو لوگو میرے بابا کو پکارو لیجا کے رقیہ کو پدر پر کوئی وارو

زینب پھوپی اُشتر سے مجھے جلد اتارو یا حضرتِ عباس حمایت کو سدھارو

دیتی ہوں سکینہ کی قسم جا کے بچالو

بابا کو میرے تیغ کے نیچے سے اٹھالو