نرغہ ہے دلبرِ حسنِ سبز پوش پر
چاروں طرف ہے تیروں کی بوچھار جوش پر
دل پر سناں کا زخم ہے پہلو پہ دوش پر
سہرے کی سب کٹی ہوئی لڑیاں ہیں دوش پر تلوارون میں دولہا کا منھ خوں سے دھوتی ہے
خیمہ میں غل ہے آج دلہن رانڈ ہوتی ہے
بہہ بہہ کے خوں ٹپکتا ہے ہر بار ہاتھ سے
زخمی ہے نکلی جاتی ہے تلوار ہاتھ سے اب کیا کریں نبرد ہے پیکار ہاتھ سے
چھوٹی عنانِ اسپِ وفادار ہاتھ سے
خوں بہہ گیا جہان سے منھ موڑ نے لگے گر کر زمینِ گرم پہ دم توڑنے لگے
سر کاٹنے اُدھر سے بڑھے فوج کے سوار
دوڑے اِدھر سے شاہ علم کر کے ذوالفقار تھے ساتھ ساتھ اکبر و عباسِ نامدار
دہشت سے تین شیروں کی بھاگے ستم شعار مجروح ناتواں کا عجب حال ہو گیا گھوڑوں سے جسم دولھا کا پامال ہو گیا رونے لگے امامِ اُمم دیکھ کر یہ حال لاشہ اُٹھا کے لے چلے آخر بصد ملال اک دو قدم بڑھا تھا رسولِ خدا کا لال
ہچکی جو آئی مر گیا ہے ہے وہ خوش خصال
گودی میں شہ کی پھول سے کُمھلا کے رہ گئے
بازو لہو بھرے ہوئے تھرا کے رہ گئے
فضہ نے دیکھا شہ کو جو آتے ہوئے اِدھر
ِخیمے کے صحن سے یہ پکاری بچشمِ تر
سیدانیوں عروس سے ہوشیار با خبر
ڈیوڑھی تک آئی مادرِ نوشاہ نوحہ گر
فاقوں سے ہے نڈھال قدم لڑکھڑاتے ہیں مسند بچھاؤ دولہا کو شبیر لاتے ہیں
حالت ہے غم سے غیر شۂ خوشخصال کی ہے ہے جوانی قاسمِ یوسف جمال کی پوشاک خوں سے سُرخ ہے اُس نونہال کی
آؤ برات دیکھ لو شبر کے لال کی رونے کا شور چرخ پہ جاتا ہے صاحبو
دولہا چچا کی گود میں آتا ہے صاحبو
دوڑے حرم اِدھر سے کھلے سر برہنہ پا
خیمہ میں آئے لاش لئے شاہِ کربلا ناموس میں قیامتِ کبریٰ ہوئی بپا وا قاسما کی چرخ پہ جانے لگی صدا
بہنیں قریب آگئیں آنسو بہانے کو پھیلائے ماں نے ہاتھ گلے سے لگانے کو
خیمہ تک آئے سب حرمِ پاک نوحہ گر لاشہ لِٹا کے رونے لگے شاہِ بحروبر
عباس پیٹنے لگے ہاتھوں سے اپنا سر اکبر کے پاس رکھ دیا سہرا لہو میں تر تغیرِٔ حالِ مادرِ غم ناک ہو گیا
سینے کے زخم دیکھ کے دل چاک ہو گیا
فضہ نے باندھا حجرہ کا پردہ بصد ملال لائی دلہن کو تھام کے بانوئے خوشخصال
مٹی بھری تھی مانگ میں کبرا کا تھا یہ حال میلی سی چادر اوڑھے ہوئے کھولے سر کے بال
دِکھلا کے زخم سب جسدِ پاش پاش کے
بِٹھلا دیا عروس کو پہلو میں لاش کے
جسدم دلہن نے دولہا کے زخموں پہ کی نظر کانپا کلیجہ اشک بہے شق ہوا جگر
قدموں کی سمت جھک کے یہ بولی وہ نوحہ گر
صاحب اُٹھو ہم آئیں ہیں لاشہ پہ ننگے سر کھولے ہیں بال بیکس و نالاں کو دیکھ لو تم بھی ہمارے حالِ پریشاں کو دیکھ لو
صاحب بتاؤ کیا میں اسیرِ محن کہوں
بیکس کہوں، غریب کہوں، بیوطن کہوں مجروح کہوں کہ آپ کو یا بے کفن کہوں
دولہا کہوں کہ آپ کو ابنِ حسن کہوں کیا کہہ کہ رؤوں کوئی بتاتا نہیں مجھے تازہ دولہن ہوں بین بھی آتا نہیں مجھے
فضہ نے لا کے اتنے میں رنڈ سالہ رکھ دیا
دولہا کی ماں نے ہاتھ میں اُس کو اُٹھا لیا اور بولی اِسکو پہنو یہ خلعت ہے بیوؤں کا
کبرا نے سر کو پیٹھ کے اور رو کے یہ کہا اب کیوں لباس رانڈوں کا مجھکو پنہاتے ہیں
دلہن بنا کے کیا کوئی بیوہ بناتے ہیں