کس عمر میں علی النقی بے پدر ہوئے
بچپن میں دل پہ چوٹ لگی نوحہ گر ہوئے یثرب میں جانشینِ شہ بحروبر ہوئے یہ وارثِ بضاعت خیر البشر ہوئے
علم و عمل کو مان لیا شیخ و شاب نے کیا کمسنی میں پائی بزرگی جناب نے
چرخِ نہم امامِ دهم کا مقام ہے پشت و پناہ عرشِ بریں اِن کا نام ہے ہر چار سمت مدح و ثنائے اِمام ہے تسبیح ششجہت کی درود و سلام ہے ناری ہے جو کہے کہ یہ نورِ خدا نہیں انوارِ خمسۂ نجبا سے جُدا نہیں اے دورِ چرخ راہ یہ کیسا ہے انتظام
خاموش کیوں رہوں کہ شکایت کا ہے مقام رہنے نہ پائے چین سے اِسطرح کا امام
قائم مقام اُس کے ہوئے دشمنِ امام
فرزند پر رسول کے اُمت جفا کرے پرساں نہ جب کوئی ہو تو مظلوم کیا کرے تیار قتل پر مُتوکل رہا مدام مجبور رہ گیا وہ عدوئے شہ انام پہنچا سفر میں چھوڑ کے یہ کارِ ناتمام
قائم مقام اُس کے ہوئے دشمنِ امام
فرصت ملی نہ دلبرِ شیرِ الہ کو تدبیرِ معتمد سے مِلا زہر شاہ کو وہ خلق کا مسیح ہوا صاحبِ فراش
بے حس تھا جسم فرش پہ گویا پڑی تھی لاشی کنجِ لحد کی گوشہ نشیں کو ہوئی تلاش
سُوراخ دل میں تھے تو کلیجہ تھا پاش پاش
جن میں ہے ایک کا حسن ابنِ حسین نام
آیا جو روزِ رحلتِ شاہِ فلک مقام
صحنِ مکان میں فرش پہ تھے جلوہ گر امام مجمع بہت تھا سیدِ ذی جاہ کے قریب مردم تھے جمع یک صد و پنجاہ کے قریب ناگاہ عسکری نظر آئے ہمیں اُداس
داخل ہوئے مکاں میں عیاں چہرے سے تھی یاس پابندِ حُزن چاک گریباں و بے حواس
دہنی طرف کھڑے ہوئے آکر پدر کے پاس
کس حال میں ہیں کون یہ ہیں جانتے نہ تھے
حُضّارِ انجمن انہیں پہچانتے نہ تھے نورِ نظر کو دیکھ کے حضرت نے یہ کہا کر شکر کردگار کا ائے میرے مہ لقا
حادث اک امر تیرے لئے حق نے ہے کیا رونے لگا یہ سنتے ہی وہ راضیٔ رضا
بولا کہ شکرِ مرحمتِ ذوالجلال ہے
دے اپنی نعمتیں یہ خدا سے سوال ہے پوچھا کسی نے تب ہوا معلوم سب کو حال یہ ہیں حَسن جنابِ علی النقی کے لال
ظاہر ہوا جو عمر کی جانب کیا خیال ہوگا قریب بیس برس کے یہ خوش جمال
ساعت وہ آئی سر سے اُٹھا سایۂ پدر اب سامرے سے ہوتا جہاں کی طرف سفر ہے ہے چُھٹا مسافرِ یثرب سے یہ بھی گھر
غل پڑ گیا وفاتِ غریب الوطن ہوئی
سامان غسل کا ہوا فکرِ کفن ہوئی