Kanz e Aza

کسی بیمار نے خط اپنے مسیحا کو لکھا

A marsiya. Lyrics in Urdu.

کسی بیمار نے خط اپنے مسیحا کو لکھا

حال بیماریوں کا بیٹی نے بابا کو لکھا

جو بھی اَرمان تھا دل میں شہ والا کو لکھا اور سلام اپنا پھوپی ثانیٔ زہرا کو لکھا

دل میں خوش تھی کہ مرا خط جو پہونچ جائیگا ہے یقیں اب کوئی لینے کیلئے آئیگا

خط میں القاب یہ بیکس نے کیا تھا مرقوم

چاہنے والے پدر میرے امامِ مظلوم رات دن روتی پڑی رہتی ہوں میں یاں مغموم

آپ تو بھول گئے خیر یہ میرا مقسوم نہ گلہ تم سے ہے نہ کوئی شکایت بابا ہاں مبارک ہو سکینہ سے محبت بابا

خیر تم کو نہ سہی مجھ کو ہے تم سے اُلفت کسی صورت مجھے دِکھلاؤ تم اپنی صورت

جانتی ہوں کہ سکینہ پہ بہت ہے شفقت اچھا اۓ بابا بہن کی میں کرونگی خدمت

مجھ کو بلوا کے وہاں میرا بھی دل شاد کرو لو کنیزی میں سکینہ کی مجھے یاد کرو گر نہیں مجھ کو بُلاتے ہو تو آؤ بابا

شوق سے اپنی سکینہ کو بھی لاؤ بابا اُس کو سینے پہ سُلاتے ہو سُلاؤ بابا ہم کو رولواتے ہو تو خیر رولاؤ بابا رنج سہتی ہوئی دنیا سے گزر جاؤں گی

آپ آئیں نہیں ایک دم میں میں مر جاؤں گی

آرزو ہے کہ کسی طور یہاں آپ آئیں

آپ کی جان سے دور آہ جو ہم مر جائیں اپنے ہاتھوں سے کفن آپ مجھے پہنائیں اور تکلیف لحد تک بھی ذرا فرمائیں

بس زیادہ نہ سواری یہاں ٹہرائیے گا

دفن کرتے ہی مجھے آپ چلے جائیے گا ماں کو مرقوم تھا ائے مادر فرخندہ سیر

سخت بابا کی طرح کر لیا تم نے بھی جگر آس بچنے کی نہیں لیجئے اب جلد خبر ورنہ بیمار کا اب ہوتا ہے دنیا سے سفر نہیں اُمید کہ بچ جائے یہ مضطر اماں

دودھ اب بخش دو بیمار کو آکر اماں تھا رقم حضرت زینب کو پھوپی نیک خصال تم کو بھیا علی اکبر سے محبت ہے کمال

ہائے ہر دم مجھے رہ رہ کر اب آتا ہے خیال کہ میرے بھائی پہ ہے بھاری یہ اٹھارواں سال ہاں تصدق کے لئے دیر نہ فرمائیے گا

صدقہ ہونے کے لئے بھائی پہ بلوائے گا تھا علمدار کو تحریر کہ عباس چچا

دور اُفتادہ بھتیجی سے ہوئے تم بھی خفا

سنتے ہیں آپ کی ہر بات کو میرے بابا مجھ کو بلوائیے یا لائیے اُن کو میں فدا

چوموں گی ان کے قدم تم کو دعائیں دونگی ان کی بھی اور تمہاری بھی بلائیں لونگی لکھا اکبر کو کہ ائے باپ کے پیارے اکبر اور پھوپی جان کے بھی راج دلارے اکبر میرے بابا کی ضعیفی کے سہارے اکبر ہے یہ بیمار بہن گور کنارئے اکبر وعدہ لے جانے کا تھا دیکھئے کب آتے ہیں

آپ تو آتے نہیں خلق سے ہم جاتے ہیں تھا خطاب اصغرِ ناداں سے کہ ائے رشکِ قمر گھٹنیوں بھی نہ چلے ہو گیا در پیش سفر

مجھ کو ہر دم ترا رہتا ہے خیال آٹھ پہر

سوتے ہو جھولے میں یا جاگتے ہو ائے اصغر نیند آرام سے اور چین سے آتی ہوگی

جب سکینہ تیرے جھولے کو جھلاتی ہوگی یاد آتے ہیں تمہارے وہ جھنڈولے مجھے بال

ِصدوسی سال سلامت رہو ائے مہر جمال تم کو بیمار بہن کا نہیں معلوم احوال موت نزدیک ہے اور ضعف و نقاہت ہے کمال میں جو مر جاؤں کہیں بھول نہ جانا اصغر گھٹنیوں چلتے ہوئے قبر پہ آنا اصغر

یہ نہ تھا علم اُسے کٹ گیا سرور کا گلا

قاسم و اکبر و عباس ہوئے شہ پہ فدا تیر کھا کر علی اصغر بھی گئے سوئے بقا

باقی اک بھائی تھا سجاد سو وہ قید ہوا ماں پھوپی بہنیں لٹیں خیمے بھی تاراج ہوئے ایک چادر کو حرم شاہ کے محتاج ہوئے