ہائے کس پیکس و مظلوم کا یہ ماتم ہے
فاطمہ آئی ہے رونے کو یہ کس کا غم ہے ننگے سر ساتھ ہیں حوریں بھی عجب عالم ہے رونے والوں سے یہ ارشاد بھی تو پیہم ہے رونے والو تمہیں رونے کا صِلہ دینے کو
فاطمہ آئیں ہیں ہیں تم سب کو دعا دینے کو ائے عزادارو تمہیں خالقِ اکبر کی قسم کون مظلوم ہے وہ تم کو پیمبر کی قسم
نام لو اُس کا زباں سے تمہیں حیدر کی قسم
بے زباں ہنسلیوں والے علی اصغر کی قسم رو کے کہدو کہ کوئی بیکس و مغموم نہیں
جُز حسین ابنِ علی اور کوئی مظلوم نہیں یہی مظلوم مدینے کا ہے رہنے والا ایک سیدانی نے فاقوں میں جسے تھا پالا نیرِ بُرجِ امامت کا یہی ہے ہالا ایک بیکس پہ ستم ہے یہ فلک نے ڈالا
صبح سے عصر تلک گھر کو لٹایا اِس نے مر گئے سب تو گلا اپنا کٹایا اِس نے
شبِ ہفتم سے ہوا بند اِسی پر پانی اِس مظلوم کے قسمت میں یہ تھی حیرانی
ذبح جب ہوتا تھا رن میں جو علی کا جانی پیٹتی پھرتی تھی مقتل میں کوئی سیدانی کون سیدانی وہی فاطمہ کی جائی تھی
بھائی کے پیار میں سر ننگے نکل آئی تھی ہاں پیمبر کے مدینہ کا مسافر ہے یہی اپنے نانا کی لحد کا بھی مجاور ہے یہی
جسکو پانی نہ ملا تا دمِ آخر ہے یہی
جس پہ صدقے ہوئے ایوب وہ صابر ہے یہی
بیکس و بے وطن و تشنہ دہن کہتے ہیں اِسی مظلوم کو محتاجِ کفن کہتے ہیں یا حسین آپ کی مظلومی و غربت کے نثار
سر کو کٹوا دیا کس شان سے ہمت کے نثار تہہ خنجر بھی کیا سجدہ عبادت کے نثار ننگے سر دیکھا نہ ہمشیر کو غیرت کے نثار ہوں فدا آپ پہ منھ اشکوں سے دھونے والے یا حسین آپ پہ صدقے ہوں یہ رونے والے
دیکھیں اِس بیکس و مظلوم کی شانِ غربت
چھوٹے بیٹے کی لحد کھودی ہے اُف رے ہمت کانپتے ہاتھوں سے آقا نے بنائی تربت کیا کہیں کس سے کہیں قلب کی اپنی حالت
چاند کو اپنے تہہ خاک چھپایا ہے ابھی ہنسلیوں والے کو تربت میں سلایا ہے ابھی کسی قدر بیکس و مجبور تھا یہ شاہ غریب نہ کفن چھوٹے سے سید کو ہوا اسکے نصیب
سرکو کٹوائے ہوئے سوتے ہیں سب اِسکے حبیب
پیا س سے تین شب و روز سے حالت ہے عجیب یا علی کہہ کے سنبھالا ہے دلِ مضطر کو
خوں بھرے کُرتے میں دفنایا علی اصغر کو رو کے دیتے ہیں صدا ائے مہر انور بولو ائے میرے چھوٹے شہید اے میرے دلبر بولو
باپ کو چھوڑ کے تنہا گئے کیونکر بولو
درد کیسا ہے گلے میں علی اصغر بولو گود میں بیٹھ کے سب حال سنانا بیٹا تیر کا زخم بھی دادی کو دکھانا بیٹا