کہتی تھی رو کے زینبِ نالاں جواب دو
خاموش کیوں ہو اے مری اماں جواب دو کیا ہو گیا یہ حشر کا ساماں جواب دو ہوتی ہے بیٹی آپ پہ قرباں جواب دو اب تو برائے خالقِ یزداں جواب دو اماں جواب دو مری اماں جواب دو ہمسائیوں کی تھی یہ شکایت کے اماں جاں
یا دن کو روئیں یا تو کریں رات کو فغاں رونے سے آپ کے ہے خلل کام میں یہاں نانا کے بعد پھر گئے جو جو تھے مہرباں کیسے تھے کلمہ گو وہ مسلماں جواب دو اماں جواب دو مری اماں جواب دو نانا کا سایہ سر سے اُٹھا صبر کر لیا پہلو پہ در گرایا گیا صبر کر لیا اُمت نے جو جو ظلم کیا صبر کرلیا اس ظلم کا گِلہ نہ کیا صبر کر لیا کیسی تھی صابرہ مری اماں جواب دو اماں جواب دو مری اماں جواب دو
بھائی حسن حسین ہیں گریاں اُٹھو اٹھو کنبہ ہے اب تمھارا پریشاں اُٹھو اٹھو کچھ بولتی نہیں مری اماں اُٹھو اُٹھو کیسی لگی ہے نیند میں قرباں اُٹھو اٹھو
زینب کہے گی اب کسے اماں جواب دو اماں جواب دو مری اماں جواب دو
بھائی کا بیاہ بھی نہ رچانا ہوا نصیب
ہے ہے دُلھن کو گھر میں نہ لانا ہوا نصیب
بس ہائے تم کو رونا رلانا ہوا نصیب
دل میں نہ چین تم کو بسانا ہوا نصیب
کیا کیا تھے دل میں آپ کے ارماں جواب دو اماں جواب دو مری اماں جواب دو ائے غم نصیب مادر مضطر اُٹھو اُٹھو
آئے گا صبر اب مجھے کیونکر اُٹھو اُٹھو اب تو برائے خالقِ اکبر اُٹھو اُٹھو
سر پیٹتی ہے آپ کی دختر اُٹھو اُٹھو محبوبِ کبریا کی دل و جاں جواب دو اماں جواب دو مری اماں جواب دو
دینے لگے جو غسل تو روئے بہت علی تھاما جگر کو پہلو پہ جس دم نظر پڑی
فارغ جو غسل سے ہوئے رو کر صدا یہ دی
زينب اَب آؤ دیکھ لو دیدار آخری
بیٹی تمہاری آتی ہے نالاں جواب دو اماں جواب دو مری اماں جواب دو
بھائی حسین روتے ہیں اُٹھ کر گلے لگاؤ
غم میں تمھارے پیٹتے ہیں سر انھیں مناؤ کنبہ سے اپنے آخری ملتے ہوئے تو جاؤ پھر ایک بار بیٹی کو اپنی صدا سناؤ
کیا سو ر ہے ہو تم پہ میں قرباں جواب دو اماں جواب دو مری اماں جواب دو ائے میری غمزدہ و دل افگار اماں جاں محبوبِ کبریا کی عزادار اماں جاں کیا ہوگئی جہان سے بیزار اماں جاں کچھ تو کہو زبان سے ایک بار اماں
جاں
بیٹی کھڑی ہے مضطر و حیراں جواب دو اماں جواب دو مری اماں جواب دو
بابا ہیں صَرفِ گریہ و زاری اُٹھو اُٹھو
دیکھو تو سارے گھر کی تباہی اُٹھو اُٹھو
تم کو قسم ہے حق کی میں واری اُٹھو اُٹھو لو آگئی تمہاری سواری اُٹھو اُٹھو
آئے ہیں در پہ بوذر و سلماں جواب
دو اماں جواب دو مری اماں جواب دو
جنت کو ائے نبی کی دل و جان جائیے اب گھر ہمارا ہو گیا سنسان جائیے پھر ایک بار ہولوں تو قربان جائیے
خالق ہے اب تمہارا نگہبان جائیے کیا داغ ہم کو دے گئیں اماں جواب دو اماں جواب دو مری اماں جواب دو
غم میں ہے سو گوار حمایتٓ بھی آپ کا یہ مرثیہ بھی آپ کا پُر درد ہے لکھا
طالب ہے روزِ حشر سہارا ہو برملا
فریاد اس کی آپ سنیں بہرِ کبریا
بارِ گناہ سے ہے وہ ہراساں جواب دو اماں جواب دو مری اماں جواب دو