Kanz e Aza

بلقیس پاسباں ہے یہ کس کی جناب ہے

A marsiya. Lyrics in Urdu.

بلقیس پاسباں ہے یہ کس کی جناب ہے مریم درود خواں ہے یہ کس کی جناب ہے

شانِ خدا عیاں ہے یہ کس کی جناب ہے

دہلیز آسماں ہے یہ کس کی جناب ہے کرسی زمیں سے لیتی ہے گوشے پناہ کے

بیٹھا ہے عرش سایہ میں کس بارگاہ کے اُلفت خدا کے بعد حبیبِ خدا کی ہے منصف کہ پاس یہ بھی ولا کبریا کی ہے پروانہ فاقہ کی نہ شکایت غذا کی ہے ایذا فقط جدائی خیرالورا کی ہے

آب و غذا کی فکر نہ سونے کا دھیان ہے

آنکھوں میں شکل باپ کی رونے کا دھیان ہے

بیٹے پکارتے ہیں کہ لِلّہ باہر آؤ اماں نہ اتنا رؤو غلاموں پہ رحم کھاؤ نانا کہاں گئے ہیں بلا لائیں ہم بتاؤ ہم کپڑے پھاڑتے ہیں نہیں تو گلے لگاؤ نانا کے بعد ہائے یہ بے قدر ہم ہوئے

سب اک طرف حضور کے بھی پیار کم ہوئے

آخر وفورِ گریہ سے عاجز ہوئے عرب

حیدر کے پاس رونے کی فریا د لائے سب کی عرض فاطمہ سے کہو اے ولی رب یا سیدہ تمہاری رعیت ہے جاں بلب کھانے کا کوئی وقت نہ سونے کا وقت ہے

جو وقت ہے وہ آپ کے رونے کا وقت ہے

باہر سے مرتضٰی گئے گھر میں جھکائے سر منھ ڈھانپے رو رہی تھی اکیلی وہ خوش سیر

دینے لگے پیامِ عرب شاهِ بحروبر گھبرا کے بولی ہائے کروں کیا میں بے پدر

قابو میں موت ہوئے تو مر جاؤں یا علی

بابا کا سوگ لیکے کدھر جاؤں یا علی میری طرف سے اہلِ مدینہ کو دو پیام لوگو خفا نہ ہو میری رخصت ہے صبح شام

دو چار دن تمہارے محلّہ میں ہے مقام رونے کی دھوم ہو چکی اب کام ہے تمام گھبراتی ہوں وطن میں صفر کے مہینے سے

با با سدھارے کام مجھے کیا مدینے سے اک دن نگاہ کرتے ہیں کیا شاہ لافتی مطبخ ہے گرم آردِ جَو ہے گندھا ہوا

نہلا رہی ہے بچوں کو مل مل کے دست و پا پھیلا دیئے ہیں کرتے بھی دھو کر جدا جدا پوچھا کہ اتنے کاموں کا جو شغل آج ہے اس وقت کچھ بحال تمھارا مزاج ہے

بولی کہ آج رات کو ہو جاؤں گی بحال

کل میرے کا روبار میں تم ہو نگے خود نڈھال

خدمت کا میرے بچوں کی ہوگا کسے خیال نہلا دھلا دیا کہ پریشاں تھا انکا حال

کرتے بھی دھوئے قوت بھی کل تک کا دے چلی

سہرا نہ دیکھا ایک یہ ارمان لے چلی پھر تو ہر اک محلّہ میں محشر بپا ہوا اپنے پرائے دوڑے کہ ہے ہے یہ کیا ہوا

فضہ پکاری سیدہ کا واقعہ ہوا

حجرہ بتولِ پاک کا ماتم سرا ہوا

چھاتی قلق سے دیکھنے والوں کی پھٹ گئی

منھ رکھ کے منھ پہ مردے کے زینب لپٹ گئی میں دودھ بخشوانے نہ پائی کہ چل بسیں

شربت بنا کے لانے نہ پائی کہ چل بسیں کچھ حالِ دل سنانے نہ پائی کہ چل بسیں میں بے نصیب آنے نہ پائی کہ چل بسیں کیا جلد تر زمانہ ہوا انتقال کا

ہے ہے ابھی تو سن تھا کُل اٹھارہ سال کا ائے میری فاقہ کش میری نادار اماں جاں ائے میری بے دوا میری بیمار اماں جاں کعبہ کی آبرو میری سردار اماں جاں ائے میری صابرہ میری نا چار اماں جاں نانا موئی تو تھی کوئی تازہ خطاب دو اماں جواب دو میری اماں جواب دو ننھے سے سر کھلے ہیں نہیں سر پہ ٹوپیاں

کہتے ہیں کچھ تو منھ سے نکلتا ہے ہائے ماں لکھا ہے جب جنازے پہ پہونچے وہ نیم جاں

حسرت سے دیکھا مردہ کا منھ اور یہ کی فغاں اماں غلام آئے ہیں رخصت کے واسطے

جاتی ہو تم نبی کی زیارت کے واسطے