جب ابنِ بوتراب بروئے زمیں گرا
بے دست ہو کے خاک پہ وہ مہ جبیں گرا اور ہاتھ اک طرف علمِ شہ کہیں گرا
چلائی فاطمہ کہ مرا نازنیں گرا
کٹتا ہے کوئی دم میں سر اُس نو جوان کا مٹتا ہے اب نشان علی کے نشان کا
ِسنتے ہی اِس صدا کے شہنشاہ بحروبر
دوڑے گرے اُٹھے نہ سنبھالا گیا جگر کانپے جو پاؤں تھام لیا بازوئے پسر
چلاتے تھے کہو علی اکبر چلیں کدھر مجمع ہٹاؤ فوجِ ستم کا ترائی سے
بیٹا ملا دو جلد مجھے میرے بھائی سے اکبر اُجڑ گیا مرا گھر وامصیبتا
سیدھی نہ ہوگی اب یہ کمر وا مصیبتا ہے آج تازہ داغِ پدر وا مصیبتا کاٹا گیا چھری سے جگر وا مصیبتا
پُرسہ تو دوں نجف کی طرف منھ کو موڑ دو
سر پیٹتا چلونگا میرے ہاتھ چھوڑ دو اکبر قریبِ لاش جو لائے حسین کو
عباس جاں بلب نظر آئے حسین کو تڑپا وہ شیر سن کے صدائے حسین کو اکبر نے ہاتھ اُٹھا کے دکھائے حسین کو
دوکوہ غم کے دل پہ جو اک بار گر پڑے پہلو میں لاش کی شہ ابرار گر پڑے ایک بار غش سے چونک کے عباسِ ذی وقار اور جانکنی میں آنکھوں کو کھولا بہ حالِ زار پوچھا کدھر ہواے میرے آقائے نامدار
حضرت لپٹ کے بھائی سے بولے کہ میں نثار
صدمے ہیں جانکنی سے فزوں اِس جدائی کے
بھائی کا داغ پوچھے کوئی دل سے بھائی کے
بھائی تمہاری بالی سکینہ جگر فگار
ِبچوں سے کہہ رہی ہے یہ با چشم اشکبار اک لحظہ اور صبر کرو تم پہ میں نثار
دیکھو کہ جاں بلب ہے مرا بھائی شیر خوار
پیاسی ہوں میں بھی تین دن اور تین رات سے اب پانی لاتے ہو ئینگے عمو فرات سے
ِسنکر یہ حال دل پہ لگا اور تیر غم
ِروئے لہو کے اشکوں سے عباس ذی حشم اتنا کہا کہ رہ گئے شرمندہ اُس سے ہم پہنچاتے مشک ہاتھ نہ ہوتے اگر قلم
کچھ بس چلا اجل سے نہ اس بے قصور کا مجبور ہو گیا یہ بہشتی حضور کا یہ ہیں کچھ وصیتیں مری اس وقت یا امام
اُن میں سے ایک یہ کہ تصدق ہو جب غلام
ساحل سے لاش اُٹھ کے نہ جائے سوئے خیام
جس جا پڑا ہوں قبر کا بھی ہو وہی مقام
سر کے نہ خانہ زاد امامِ دلیر کا مسکن رہے ترائی میں حیدر کے شیر کا
ِاور دوسری یہ عرض ہے ائے شاہ نیک خو
شہزادیاں محل سے نہ نکلیں کشادہ مو
دیکھیں نہ آکے بالی سکینہ میرا لہو اور ایک مرتے مرتے ہے یہ دل کی آرزو
آئے لحد میں بوئے امامِ زمن مجھے
بخشیں حضور اپنی عبا کا کفن مجھے
ِسر پیٹ کر یہ کہنے لگے شاہ بحروبر
عباس ٹکڑے کرتے ہو کیوں بھائی کا جگر اچھا نہ لاش اُٹھائیگا یاں سے یہ نوحہ گر تربت بنے گی آپ کی بے شبہ نہر پر
سچ ہے کہ بہرِ شیر ترائی ضرور ہے
بھائی مگر تمہاری لحد ہم سے دور ہے
یہ کہہ کے ڈال دی تنِ پُر نور پر عبا
فرمایا اب تو شاد ہوئے تم پہ میں فدا یہ خلعتِ اخیر ہے ائے میرے دلربا اِسکو بھی لوٹ لیں گے مگر بانی جفا
چھن جائیں گی ردائیں بھی اُس اِژدھام میں
سر ننگے رانڈیں نکلیں گی بلوائے عام میں یہ سن کے پائے شاہ کی جانب جھکایا سر کانپے لہو بھری ہوئی آنکھوں کو کھول کر
ٹپکے مژہ سے خون کے خطرے اِدھر اُدھر کس پاس سے حسین پہ کی آخری نظر منکا جری کا ڈھل گیا بھائی کے سامنے
بھائی کا دم نکل گیا بھائی کے سامنے