بے چین دل تھے حضرتِ باقر کی یاد میں
سامانِ غم تھا فرقۂ پاک اعتقاد میں تھا جشنِ عید خانۂ اہلِ عناد میں گویا بہار آئی تھی باغِ مراد میں
خوش تھے کہ بارور شجرِ مدعا ہوا اک تازہ گل علی کے چمن سے جدا ہوا
دن رات اہلِ شر اسی تدبیر میں تھے آہ
خیر البشر کا نام مٹا دیں وہ روسیاه پر خلق رہ نہ سکتی تھی بے حجتِ الہ
بخشا خدا نے جعفرِ صادق کو عز و جاہ
جو ہر کشائے تختِ کرامت ہوئے حضور رونق فزائے تختِ امامت ہوئے حضور
قرباں ملک تھے جعفرِ صادق کی شان پر
حافظ فدا تھے مصحفِ ناطق کی شان پر مولا تو جان دیتے تھے خالق کی شان پر معشوق کو بھی ناز تھا عاشق کی شان پر
قائل زباں ہر ایک منافق کی ہوگئی
عالم میں دھوم اُلفتِ صادق کی ہوگئی راضی قضا پہ تھا وہ جگر بند مرتضٰی کرتا ہے ایک شخص یہ وصفِ شہ ہدا
بیمار کوئی آپ کا تھا طفلِ مہ لقا
دولت سرا پہ اُسکی عیادت کو میں گیا
حضرت کھڑے ہوئے تھے جھکا میں سلام کو پایا مگر اُداس اِمام اَنام کو اندر گئے حضور میں ٹہرا رہا وہیں
دیکھا یہ واپسی میں کہ غم کا اثر نہیں میں نے کہا کہ شاد رکھے ربُ العالمیں
شہزادہ خیریت سے ہے ائے بادشاہ دیں
فرمایا وہ مریض جہاں سے گذر گیا لڑکے کا حال دیکھ کے آیا ہوں مر گیا پوچھا کہ پہلے حنج تھا اب کیوں نہیں ملال
بولے ہم اہلبیتِ نبی کا یہی ہے حال
غم کا دمِ نزول بَھلا کرتے ہیں خیال نازل وہ ہوگئی تو کیا شکرِ ذوالجلال تسلیم کس طرح نہ رضا کبریا کی ہو
بندے کا دخل کیا جو مشیت خدا کی ہو معصوم کی قضائے الہٰی پہ تھی نظر
کیوں کر نہ ہو حسین سے صابر کے تھے جگر ہے آشکار ہمتِ شبیر نامور پردیس میں لُٹا دیا آباد اپنا گھر راہِ خدا میں دل کو سنبھالا اِمام نے اولاد ذبح ہو گئی آنکھوں کے سامنے
باقر کے لختِ دل کو نہ آیا کبھی غضب تابع خدا کے حکم کا تھا سرورِ عرب کرتا تھا صبرِ ناصرِ دینِ حبیبِ رب
دیتا تھا صدمے آپ کو منصور بے ادب
فرعونِ عصر پھر گیا فخرِ کلیم سے کینہ تھا سنگِ سخت کو دُرِ یتیم سے رہتی تھی اُسکو شام و سحر فکرِ قتلِ شاہ
جلتا تھا آفتابِ امامت سے روسیاہ تھی آرزو کہ خانۂ حیدر ہو پھر تباہ ہوں بے امام خادمِ سلطانِ دیں پناہ
سادات مبتلائے بلائے عظیم ہوں
جعفر ہوں قتل موسیٔ کاظم یتیم ہوں
ظالم کو بے گناہ سے منظور تھی دغا مَکَّار نے عراق میں آخر طلب کیا کرتا رہا اِرادۂ قتلِ شہ ہدا اعجاز تازہ دیکھ کے کر دیتا تھا رہا تیغِ ستم نکالتا تھا جب نیام سے
چل سکتا تھا نہ زور دعائے امام سے
صد حیف سنگدل کو نہ کچھ اسکا تھا خیال مہماں مرا ہے گلشنِ باقر کا نونہال منصور کا بھی ترکِ وفا میں وہی تھا حال
جیسے یزید و ابنِ زیادِ زبوں خصال کس طرح ظالموں نے ستایا حسین کو لوٹا بُلا کے گھر سے شہ مشرقین کو
حق کے ولی کا دشمنِ جانی تھا روسیاہ
سب آفتوں سے بچکے وطن میں جب آئے شاہ وو ظلم ہو گیا کہ مدینہ ہوا تباہ انگور میں امام کو دلوایا زہر آہ
سروِ ریاضِ دیں کا عجب حال ہو گیا
سر سبز باغ دین کا پامال ہو گیا