پدر کی یاد میں روتی تھی فاطمہ زہرا منہ اپنا اشکوں سے دھوتی تھی فاطمہ
زہرا نہ ایک آن بھی سوتی تھی فاطمہ زہرا الم سے جان کو کھوتی تھی فاطمہ زہرا
نہ چاہ پانی کی اور نہ غرض تھی کھانے سے تھا کام آنکھوں سے خونِ جگر بہانے سے
تھا اک تو باپ کا غم اور یہ ہوئی آفت کہ بطنِ پاک میں محسن کی ہوگئی رحلت
بس اور ہوگئیں محبوس رنج و غم حضرت نہ ایک آن بھی موقوف ہوتی تھی رِقّت یہ نوحہ تھا نہ زیادہ رُلائیے بابا
جہاں ہیں آپ مجھے بھی بُلایئے یہ بات سن کے اسد اللّہ کو ملال ہوا
جھکائے سر کو مکاں میں گئے جو شیرِ خد تو دیکھا روتی ہے منہ ڈھانپے فاطمہ زہرا
قریب بیٹھ گئے آپ بھی بہ درد و بُکا
خلقِ کمال ہوا یاد آگئے احمد
بڑا ملال ہوا یاد آگئے احمد
ہوںٔی جو دیر تو بولی یہ خود وہ عاشقِ رب کہو بتول سے جو کچھ ہو آپ کا مطلب
بہا کے اشک یہ کہنے لگے امیرِ عرب
شکایت آپ کے رونے کی کرنے آئے تھے سب الم میں باپ کے جاں کو نہ کھوئیو زھرا ہیں شاکی اہلِ محلہ نہ روئیو زهرا
مری طرف سے یہ ان سب سے یا علی کہدو
قصور ہو گیا اے صاحبو معاف کرو یہاں نہ روؤنگی ایذا جو ہوتی ہے تم کو
قریب ہے میری رحلت خفا نہ ہو لوگو
غمِ پدر کی نہ برداشت لائے گی زهرا نبی کے پاس بہت جلد جائے گی زھرا گئیں مکان کو ہمسائیوں کے اور کہا
بحل ہو صا حبو جو کچھ ہوئی ہے مجھ سے خطا اور ایک کرتی ہے تم سے یہ التجا زهرا مرے یتیموں پہ شفقت کی تم نظر رکھنا
جہاں میں ساتھ اب ان کا ہے اور تمہارا ہے وداع صاحبو تم سب سے ہوتی زھرا ہے نہ جان کر انھیں بن ماں کا کوئی جھڑکائے ہر ایک گود میں شفقت سے اپنی بٹھلاںٔے نہ بچپنے میں خدا ماں کا داغ دِکھلائے وہی یہ درد سمجھتا ہے جو یہ غم پائے
صغیر سِن میں بڑا ہوتا ہے الم ماں کا
دلوں کو کرتا ہے نازک کمال غم ماں کا
جب آئی بیتِ شرف میں رسول کی جائی پسر جو سامنے آئے نہ دل کو تاب آئی
جو دھو کے رکھی تھی پوشاک انکو پہنائی
بٹھا کے گود میں ہر اک کی زُلف سلجھائی گلے لگا لیا منہ آنسوؤں سے دھونے لگی
خیال آیا بدائی کا جب تو رونے لگی
علی سے کہنے لگی پھر بہا کے اشکِ بتول
چلے جہاں سے اب ہم تو ائے وصیٔ رسول
حوالے آپ کے ہیں یہ مرے چمن کے پھول ملول ہوئے گی زہرا جو ہوئیں گے یہ ملول الم میں میرے نہ ان کو بُھلائیو صاحب ہمیشہ سینہ پہ اپنے سُلائیو صاحب کبھی جو روئیں مری یاد میں نہ چھڑکانا
بٹھا کے پیار سے گودی میں اپنی سمجھانا مرے مزار پہ فرصت ہو گر تو لے آنا تم اپنے ہاتھ سے انکو کھلاںٔیو کھانا ہیں آپ جانتے حاجت نہیں ہے کہنے کی
حسین کو نہیں عادت ہے بھوکے رہنے کی
حرم میں پیٹنے رونے کا غل ہوا برپا
علی نے فاطمہ کو غسل دے کے کفنایا
جنازہ لے کے چلے گھر سے جب شہ والا
حرم پکارے خدا حافظ اے اسیرِ بلا نہ آیا صبر چلیں ہائے فاطمہ زهرا
بسانے قبر چلیں ہائے فاطمہ زھرا یہ حال زینب و کلثوم کا نظر آیا
جہاں پہ فاطمہ زہرا کا تھا رکھا لاشہ
وہاں پہ لوٹتی ہیں سر کھلے بہ درد و بُگا
بیاں ہے کیا ہوئیں اے اماں جاں ہم سے خفا
بہانے اشک ہمیں سونے گھر میں چھوڑ گئیں
قصور کیا ہوا ہم سے جو منہ کو موڑ گئیں
جو دیکھا باپ کو آتے ہوئے بچشمِ تر
قدم پہ گر کے پکاریں کہ کیا ہوئیں مادر ہماری ہوئےگی کس طرح سونے گھر میں بسر کہاں پہ چھوڑ کے اماں کو آۓ بولو پدر
بسایا قبر کو ویران یہ مکان کیا ہمارے رونے کا اماں نے کچھ نہ دھیان کیا لگا کے بیٹیوں کو سینے سے علی نے کہا
بتول دیکھتی ہو حال اپنے بچوں کا تم ہی یتیموں کو اپنے مناؤ آکے ذرا نہ مجھ سے سنبھلیں گے بچے تمہارے ائے زہرا اب آکے سینے سے اپنے لگالو بچوں کو کہاں ہو فاطمہ زہرا سنبھالو بچوں کو تمہارا حجرهٔ خالی مجھے رُلاتا ہے
خیال آکے تمہارا بہت ستاتا ہے تمہارے بچوں کا کہنا غضب یہ ڈھاتا ہے کہاں ہے ماں کو بلا دیجے حول آتا ہے تمہاری طرح سے کس طرح ناز اُٹھاؤں میں کہو یتیموں کو کیا کہہ کے اب مناؤں میں