بستر سے تھر تھرا کے اُٹھیں تھام کر عصا
قبرِ نبی پہ فاتحۂ آخری پڑھا ہمسائیوں کے گھر گئیں رخصت کو اور کہا لوصاحبو بحل کرو اب کوچ ہے میرا
ایذا تھی تم سبھوں کو میرے شور و شین سے کل فاطمہ نہ ہوئے گی تم سونا چین سے ہمسایہ کے حقوق سے آگاہ ہے جہاں لوگو میرے یتیموں سے رہنا نگاہ باں اب ساتھ اِن کا اور تمھارا ہے ہم کہاں
بن ماں کی ہوتی ہیں میری دکھیاری بیٹیاں
بچپن پہ اپنے بچوں کے آنسو بہاتی ہوں تم پر حسن حسین کو میں چھوڑے جاتی ہوں روکر کبھی حسن کو گلے سے لگا لیا
آغوش میں حسین کو گاہے بیٹھا لیا رخصت کیا کسی کو کسی کو بلا لیا پڑھنے کے واسطے کبھی قرآں اُٹھا لیا کہتی تھی گاہ بچوں سے منھ اپنا موڑ کے
کل سونے گھر میں سونا ہے بستی کو چھوڑ کے
سُن لو وصیتیں میری اِس وقت یا امام
فضہ سے میرے بعد عدالت سے لینا کام ہشیار فاطمہ کی امانت سے صبح و شام
دو بیٹیاں دو بیٹے ہیں بس اور خدا کا نام
میں نے بڑے دکھوں سے یہ سب بچے پالے ہیں
حق کے حوالے تم یہ تمھارے حوالے ہیں
سب ہاشمی قسم مری عصمت کی کھاتے ہیں مجھ کو عرب کی رسم سے اندیشے آتے ہیں
عورت کا مردہ تختہ پر رکھ کر اٹھاتے ہیں
آثار اس میں مردے کے سب پائے جاتے ہیں
دیتی ہوں میں قسم تمہیں روحِ رسول کی والی نہ یوں اٹھائیو میت بتول کی ہے آرزو کہ قبر میں مجھ کو حسن لٹائے
شبیر میرے مردہ کا منھ قبلہ کو پھرائے
پھر خود کہا نہیں نہیں بچہ ہے ڈر نہ جائے ناگاہ کھیلتے ہوئے دونوں یتیم آئے
چھاتی لگا کہ بولی کہ لو ہم تو مرتے ہیں تم سے سلوک دیکھئے کیا لوگ کرتے ہیں لے کر بلائیں بیٹی کی زہرا نے یہ کہا روتی تو ہوں زیادہ نہ زینب مجھے رُلا کچھ بھائیوں کے سونپنے کا سمجھی مدعا تو انکی رونے والی ہے زہرا ترے فدا کیا بس مرا جو مرضیٔ پروردگار ہے
زینب تمام کنبے کی تو سوگوار ہے
یہ کہتی تھی کہ غش نے دیا موت کا پیام
حجرے سے نکلے روتے ہوئے اقربا تمام ترتیبِ نعش کے لئے باہر گئے امام
زہرا نے یاں مصلے پر اپنا کیا مقام لکھا ہے بس نماز عشاء کی ادا ہوئی اور غل اُٹھا کہ بنتِ نبی کی قضا ہوئی
ما تھا حسن نے مردے کے ماتھے پہ رکھ دیا رو رو کے اماں اماں کہا اور غش ہوا تلوؤں سے اپنے ماتھے کو شبیر نے ملا
پاؤں میں دم نہ پایا تو یہ کان میں کہا میں آپ کا غلام ہوں اور نورِعین ہوں
آواز دو حسین ہوں اماں حسین ہوں