Kanz e Aza

بلا اُٹھا کے حرم کربلا میں آتے ہیں

A marsiya. Lyrics in Urdu.

بلا اُٹھا کے حرم کربلا میں آتے ہیں مریض شام کے دارالشفا میں آتے ہیں

عجب شکوہ سے دشتِ بلا میں آتے ہیں

غمِ حسین میں یادِ خدا میں آتے ہیں

جگر کے ٹکڑے بھرے دامنوں میں آئے ہیں یہ قبرِ شہ پر چڑھانے کو پھول لائے ہیں

بحار میں ہے رقم یہ روایتِ جانکاہ

جب آئے اہلِ حرم جانبِ شہادت گاہ

نہ گل نہ شمع ملی بیکسوں کی قبر پہ آہ مجاوری کو فقط جابر ابنِ عبداللّٰه

قریشی آئے ہیں اور ہاشمی بھی حاضر ہیں مسافروں کے مجاور بھی سب مسافر ہیں

دو شامیانے ہیں بالائے قبرِ سبطِ رسول وہ ایک رحمتِ حق اور ایک آہِ بتول

فلک سے حور و ملک کا ہے فوج فوج نزول

زیارتِ شہ مظلوم کر رہے ہیں حصول لحد سے اکبر و اصغر کے داغ روشن ہیں مزار ایک ہے پر دو چراغ روشن ہیں لبِ فرات ہے سقہ کی قبر عالیجاہ

جو وہ ہے شہر شہیدوں کا تو یہ شہرِ پناہ

قریب و دور سے ہے زائروں کی حافظ راہ مجاوری کو لحد پر بے روحِ شیرِ الہ لحد میں ہائے سکینہ کا شور ہوتا ہے

سکینہ کہتی ہے سقہ ہمارا روتا ہے اُدھر عیاں ہوئی بس زینبِ خجستہ خصال اِدھر لحد میں تڑپنے لگا رسول کا لال

ندا مزار سے جابر کو دی بہ رنج و ملال میں جیتا ہوتا تو کرتا بہن کا استقبال

شرف ہے فاطمہ کا فاطمہ کی جائی کو مری طرف سے تو جا اُس کی پیشوائی کو

چلا معٔ رفقا جابرِ خجستہ نہاد

سرِ حسین لئے ہاتھوں پر ملے سجاد

قدم پر گر پڑا جابر بہ نالہ و فریاد پکاری عابدِ بیکس کو زینب ناشاد گلے لگاؤ محبِّ نبی یہ جابر ہے یہ تربتِ شۂ مظلوم کا مجاور ہے گلے لگا لیا جابر کو شاہِ والا نے گلے پہ نیل رسن کے دکھائے آقا نے کہا کہ لوٹ لیا بھائی ہم کو اعدا نے

جو ہم پہ ہو گیا ہم جانیں یا خدا جانے

سرِ حسین بڑی محنتوں سے لایا ہوں

دوبارہ باپ کو میں دفن کرنے آیا ہوں محبو پیٹنے کی جا ہے آہ واویلا

غرض ورودِ حرم قبرِ شاہ دیں پہ ہوا

قنات روک کے عابد وہاں رہے تنہا کھڑے ہوئے ہیں بہ گردِ قنات آل عبا وہاں شگافتہ اعجاز سے مزار ہوا

زمین کے پردے سے خورشید آشکار ہوا تنِ حسین سے ملحق کیا حسین کا سر ہوا زمین میں گویا قرآن شمس و قمر لحد پہ تختۂ طوبٰی قرینہ سے رکھ کر پکارے عابدِ بیکس محبو آؤ ادھر

سنو بگوش کہ اِس دم رسول روتے ہیں

دوبارہ دفن مرے بابا جان ہوتے ہیں یہ کہہ کے رونے لگے ہائے عابدِ بیمار مزارِ شاہِ غریباں جو ہو چکا تیار

سرہانے بیٹھ کے سب فاتحہ پڑھے ایکبار

غرض کہ خیمۂ جابر میں آئے سب دیندار

درم نے قبر پہ سامانِ اشک و آه کیا

سرِ مزار بپا خیمۂ سیاہ کیا

سیاہ خیمہ میں اُترے سیاہ پوش حرم

طوافِ قبر کیا حلقہ باندھ کر باہم

سبھوں نے قبر کو بالوں سے جھاڑا جب اس دم لرز لرز گئی صدمے سے قبرِ شاهِ امم لحد پہ شاہ کی مسند بچھائی زینب نے

سلام کے لئے گردن جھکائی زینب نے پھپھی کے ساتھ سکینہ نے بھی کیا مجرا کہا بتاؤ تو بی بی مجھے برائے خدا مزار پر جو بچھائی ہے مسندِ زیبا نکل کے قبر سے بیٹھیں گے کیا مرے بابا کہا پھپھی نے ترا پوچھنا رولاتا ہے

بھلا یوں قبر میں بھی جاکے کوئی آتا ہے لپٹ کے قبر سے آواز دی دہائی ہے اک اربعیں سے بہن بھائی میں جدائی ہے

حسین بھائی بہن بھوکی پیاسی آئی ہے اُمیدوارِ ضیافت یہ اماں جائی ہے

نہ فرش ہے نہ مکاں ہے نہ دانہ پانی ہے

سخی کے لال یہی میری میہمانی ہے نکالو ہاتھ لحد سے گلے لگالو مجھے وطن نہ جاؤنگی میں قبر میں بلالو مجھے

بر ہنہ سر ہوں بہ زیرِ کفن چھپالو مجھے اخی بلا میں گرفتار ہوں نکالو مجھے تمہیں سکینہ کی خاطر سے رو نہیں سکتی یتیم پروری اب مجھ سے ہو نہیں سکتی