Kanz e Aza

گھر سے جب بہرِ سفر سیدِ عالم نکلے

A marsiya. Lyrics in Urdu.

گھر سے جب بہرِ سفر سیدِ عالم نکلے

سر جھکائے ہوئے بادیدۂ پرنم نکلے

خویش و فرزند کمر باندھ کے با ہم نکلے

رو کے فرمایا کے اس شہر سے اب ہم نکلے رات سے گریۂ زہرا کی صدا آتی ہے

دیکھیں قسمت ہمیں کس دشت میں لیجاتی ہے رخ کیا شہ نے سوئے قبر شہنشاہِ انام

بہرِ تسلیم جھکے متصلِ بابِ سلام اِذن پڑھ کر جو گئے قبر کے نزدیک امام

عرض کی آیا ہے آج آخری رخصت کو غلام

یہ مکاں ہم سے اب آئے شاہِ زمن چھٹتا ہے

آج حضرت کے نواسے سے وطن چُھٹتا ہے

چین سے سب ہے گھروں میں مجھے ملتا نہیں چین

سخت آفت میں ہے اب آپ کا یہ نور العین

ٹکڑے دل ہوتا ہے جب رو کے حرم کرتے ہیں بین ننھے بچوں کو بھلا لے کے کدھر جائے حسین

شہر میں چین نہ جنگل میں اماں ملتی ہے

دیکھئے قبر مسافر کو کہاں ملتی ہے اب میرے سر کے لئے تیز ہوۓ ہیں خنجر

اہلِ کیں شر پہ کمر باندھے ہیں یا خیرِ بشر

آپ نے دی تھی اِسی روز کی اماں کو خبر والدہ روئی تھی دو روز تلک پیٹ کے سر اِس نواسے کو مگر بھول نہ جانا حضرت

ذبح کے وقت مدد کرنے کو آنا حضرت

یہ وہ دن ہیں کے پرندے بھی نہیں چھوڑتے گھر

مجھ کو در پیش ہے اِن روزوں میں آفت کا سفر

ہے کہیں قتل کا ساماں کہیں لٹ جانے کا ڈر

ساتھ ہے بچوں کا ائے بادِ شہِ جن و بشر تنگ جینے سے ہوں پاس اپنے بلا لو نانا اپنی تربت میں نواسے کو چھپالو نانا یہ بیاں کرکے جو تعویذ سے لپٹے سرور یوں ہلی قبر کے تھرائی ضریح انور

آئی تربت سے یہ آوازِ حبیبِ داور تیری غربت کے میں صدقے مرے مظلوم پسر کوئی سمجھا نہ میری گود کا پالا تجھ کو ہائے اعدا نے مدینے سے نکا لا تجھ کو ائے میرے گیسوؤں والے میرے صابر شبیر میرے بیکس میرے مظلوم مسافر شبیر نہ رہا کوئی تیرا یاور و ناصر شبیر ہائے آئے گورِ غریباں کے مجاور شبیر تو جہاں جائیگا پیارے وہیں چلتا ہوں میں

خاک اُڑاتا ہوا تربت سے نکلتا ہوں میں

کئی دن سے تیری مادر کو نہیں قبر میں چین

آئی تھی شب کو میرے پاس یہ کرتی ہوئی بین

ُگھر میرا لٹتا ہے فریاد رسول الثقلین

صبح کو اپنا وطن چھوڑ کے جاتا ہے سین کہنے آئی ہوں کہ منھ قبر سے موڑونگی میں اپنے بچے کو اکیلا تو نہ چھوڑونگی میں

سن کے یہ شہ نے کیا آخری رخصت کا سلام نکلے روتے ہوئے جب روضۂ انور سے امام

قبر پر ماں کی مجھے لے چلو یا شاہِ انام لوگ ہمراہ ہیں محمل میں، میں کیونکر روؤں

ماں کی تربت سے پھر اک بار لپٹ کر روؤں ماں کی تربت پہ گئے شاہ بچشم خوں بار

ِاُتری محمل سے بصد آہ و فغاں زینب زار

دوڑ کر قبر سے لپٹے جو امامِ ابرار ہاتھ زہرا کے لحد سے نکل آئے اک بار

آئی آواز نہ رو دل کو قلق ہوتا ہے

قبر ہلتی ہے کلیجہ میرا شق ہوتا ہے ہاں بلاؤ میرا عباسِ دلاور ہے کدھر

وہ فدا ہے میرے بچے پہ میں صدقے اُس پر

شکمِ غیر سے گو ہے پہ وہ میرا ہے پسر یہ صدا سُن کے برادر کو پکارے سرور ابھی رہوار کو آگے نہ بڑھاؤ بھائی یاد فرماتی ہے اماں اِدھر آؤ بھائی

آکے عباس نے سر رکھدیا پائینِ مزار

آئی زہرا کی صدا میں تیری غربت کے نثار اپنے پیاروں کے برابر میں تجھے کرتی ہوں پیار

دھیان بھائی کی حفاظت کا رہے آئے دلدار کوئی غربت میں اِسے مار نہ ڈالے بیٹا میرا شبیر ہے اب تیرے حوالے بیٹا