Kanz e Aza

دشتِ بلا میں گم علی اکبر کی لاش ہے

A marsiya. Lyrics in Urdu.

دشتِ بلا میں گم علی اکبر کی لاش ہے

فرزندِ فاطمہ کو پسر کی تلاش ہے

داغِ جگر کو ناخنِ غم کی خراش ہے

سنگِ الم سے شیشۂ دل پاش پاش ہے

بانو کو غش ہے اہلِ حرم درد مند ہیں ہے ہے پسر کی گھر میں صدائیں بلند ہیں

چلاتے ہیں کہ باپ کے پیارے کدھر گئے ائے نورِ چشم آنکھوں کے تارے کدھر گئے ائے میری زندگی کے سہارے کدھر گئے پہونچا کے مجھ کو گور کنارے کدھر گئے اندھیر ہے اگر نہ تمہیں پائے گا پدر

آواز دو گے تم تو چلا آئے گا پدر روٹھے ہو کس لئے علی اکبر جواب دو

صدقے ہو باپ ائے میرے دلبر جواب دو ائے میرے ہمشبیہہِ پیمبر جواب دو تم سے بچھڑ کے زیست ہو کیونکر جواب دو

جو راہ ہے تمہاری وہی اپنی راہ ہے لازم ہے رحم باپ کی حالت تباہ ہے کس جا پہ تم پڑے ہو بتاؤ پدر نثار

آواز ہم کو اپنی سناؤ پدر نثار ہم گر پڑے ہیں آکے اُٹھاؤ پدر نثار

چھاتی سے پھر پدر کو لگاؤ پدر نثار رخصت ہے اپنے گھر کو ذرا دیکھ بھال لو لغزش ہے ہاتھ پاؤں میں اکبر سنبھال لو کس سے میں پوچھوں کون تمہارا پتہ بتائے یہ بیکس و غریب مسافر کدھر کو جائے

قسمت میں میری ٹھوکریں لکھی ہے ہائے ہائے اِس زندگی سے کاش خدا ہم کو بھی اُٹھائے اَندھیر ہے کہ گود کے پالوں سے چھٹ گئے منزل پہ آکے قافلہ والوں سے چھٹ گئے اب ہاتھ بھی پکڑ کے اُٹھاتا نہیں کوئی رونے پہ میرے رحم بھی کھاتا نہیں کوئی یوسف کی میری شکل دِکھاتا نہیں کوئی

بیٹا تمہاری لاش بتاتا نہیں کوئی

حالت ہماری کا ہے کو دیکھی ہے آپ نے تم کو خیال ہوگا خبر لی نہ باپ نے ائے فوجِ ظلم بانو کے دلبر کو کیا کیا

بیکس کو تشنہ کام کو بے پر کو کیا کیا ائے ظالمو شبیہہ پیمبر کو کیا کیا ملتا نہیں مرے علی اکبر کو کیا کیا لِلّہ دو پتہ کے بھٹکتے ہیں راہ میں

شاید گرا دیا میرے یوسف کو چاہ میں

چلاتی ہے کہ گود کا پالا کہاں گیا

آنکھوں کا نور گھر کا اُجالا کہاں گیا

چشم و چراغِ سیدِ والا کہاں گیا میرا وہ لمبے گیسوؤں والا کہاں گیا

دو بیٹے کھو کے پایا تھا اِس نونہال کو

برچھی سے کس نے قتل کیا میرے لال کو