سر پیٹو آج موسیٔ جعفر ہوا شہید ابنِ علی و ابنِ پیمبر ہوا شہید
غربت میں آہ کاظمِ بے پر ہوا شہید لو مومنوں کا ساتواں رہبر ہوا شہید پلوایا زہر بادِ شۂ خاص و عام کو ہارونِ نارشید نے مارا اِمام کو کس طرح سے بیان کے کروں ظلمِ اہل کیں افسوس پیٹ بھر کبھی کھانا ملا نہیں
فاقہ پہ فاقہ کرتا تھا اَحمد کا جانشیں
زنداں میں چودہ سال تھے محبوس شاہِ دیں
طاقت نہ تھی ذرا بھی قعود و قیام کی
حالت یہ تھی اِمام علیہ السلام کی
دی اُمتِ نبی کو نہ حضرت نے بد دُعا ہر وقت شہ کے لب پہ رہا شکرِ کبریا
سندی کے تازیانوں کی ہر روز تھی جفا
بہتا تھا خون جسم سے روحی لک الفدا ایزائے قید ایسی کسی نے سہی نہیں
بیداد اِس طرح کی کسی پر ہوئی نہیں القصہ زہر آپ کو انگور میں دیا
جس سے جنابِ موسیٔ کاظم نے کی قضا
بعضوں نے لکھا ہے یہ شہادت کا ماجرا پگھلا کے شیش آپ کو جبراً پِلا دیا کیسا کہوں کہ حال ہوا کیا اِمام کا
جًل کر ہوا کباب کلیجہ اِمام کا
غل پڑ گیا کہ موسیٔ کاظم نے کی قضا
لاشہ کو لا کے جَسر پہ اَعدا نے رکھ دیا اور چہرۂ امام سے کپڑا ہٹا دیا
دو روز یوں ہی لاش کا چہرہ کھلا رہا تھی لاش بیکفن شۂ عالی مقام کی توقیر تھی یہ آلِ رسولِ اَنام کی نزدیک بھائی تھا نہ پسر تھا نہ بھانجا تنہائی میں یہ ظلم و ستم وا مصیبتا
دو روز تک تو جَسر پہ لاشہ پڑا رہا
میت پر رونے والا بھی ہے ہے کوئی نہ تھا
صدمے اُٹھا کے ہائے جہاں سے گذر گئے
غربت میں آہ کاظمِ ذیشان مر گئے
شیعہ نثار آپ کی غربت کے یا امام
غربت میں تم شہید ہوئے ائے شہ انام
بے جرم مارا آپ کو یا شاہِ خاص و عام ہارون نے حیف کر دیا کام آپ کا تمام
خوفِ خدا نہ خوفِ رسولِ خدا کیا
شمعِ حیات آپ کی ظالم بجھا دیا مثلِ تماشہ دیکھتے ہیں سارے مرد و زن ہے زیرِ آفتاب اِمام ہُدیٰ کا تن ہاروں کا بھائی لاش پہ آیا بصد محن
حضرت کو اپنے گھر سے دیا قیمتی کفن کاظم کے پاس بھیجا خدا نے فدائی کو لیکن کفن مِلا نہ شہ کربلائی کو