أم البنين مادرِ عباس ذی وقار رحلت پہ تیری آلِ محمد ہیں اشکبار مظلومیت پہ تیری ہیں سب کے جگر فگار
سجاد کر رہے ہیں یہی بین بار بار
صدمے اُٹھا اُٹھا کے جہاں سے گزر گئیں پیٹو سروں کو مادرِ عباس مرگئیں
بعدِ بتول جس نے سنبھالا علی کا گھر
بچوں پہ فاطمہ کے شفقت سے کی نظر کلثوم سے رہی نہیں اک پل جو بے خبر مشغول تھی جو خدمتِ زینب میں سر بسر وہ جانثارِ زینبِ بے پر نہیں رہی وہ سوگوارِ سبطِ پیمبر نہیں رہی
سر پر علی کے زخم لگا جس کے سامنے
ٹکڑے جگر حسن کا ہوا جس کے سامنے
شبیر سے مدینہ چُھٹا جس کے سامنے گھر فاطمہ کا لوٹا گیا جس کے سامنے روتی رہی جو فاطمہ کے نورمین پر
جس نےنثار کر دیئے بیٹے حسین پر
جس دم سفر مدینے سے شبیر نے کیا
بی بی نے چار بیٹوں کو بھی ساتھ کر دیا
عباسِ نامدار سے پھر رو کے یہ کہا
شبیر کو حصار میں اپنے رکھو سدا
باندھو کمر حفاظتِ سبطِ رسول پر
آنے نہ پائے دھوپ بھی جانِ بتول ہے گر زخم کوئی آئیگا جسمِ حسین پر میں منہ دکھا سکونگی نہ زہرا کو اک نظر
زینب سے اور حسین سے غافل ہوئے اگر
بخشونگی میں نہ دودھ یہ سُن لو میرے پسر
چھدنے سے پہلے مشک کے شانے کٹاؤ تم
گر مشک چھد گئی تو پلٹ کر نہ آؤ تم
جب کربلا کو شہ کی سواری چلی گئی ویراں مدینہ ہو گیا صغرا تڑپ اُٹھی
صغرا کے پاس رہ گئیں اُم البنین بھی
بیمارِ غم کے جینے کی اُمید جو نہ تھی پیشِ نظر جو حکمِ امامِ اَنام تھا اُم البنیں کو خدمتِ صغرا سے کام تھا
جب لٹ کے آیا قافلۂ شاہِ تشنہ کام اُس وقت یہ بشیر سے کہنے لگے امام
جاکر مدینے میں یہ خبر کر بہ اہتمام
آئے ہیں قیدِ شام سے چھٹ کر حرم تمام
کرب و بلا میں لٹ گیا سب گھر امام کا
سر کٹ گیا حسین علیہ السلام کا
جس دم سنائی آکے سنانی بشیر نے
چھیدا دلوں کو برچھی نے گردن کو تیر نے گریہ کیا ہر ایک صغیر و کبیر نے پوچھا یہ آکے زوجِ جناب امیر نے
جب قتل فاطمہ کے پسر کا ہوا بتا
عباس میرا زندہ تھا اُس وقت کیا بتا
رو کر بشیر کہنے لگا تب بہ شور و شین
عباس پہلے قتل ہوئے بعد میں حسین کاٹا ہے شمر نے سرِ سلطانِ مشرقین لوٹا ہے ظالموں نے دلِ فاطمہ کا چین
غازی کے بعد لٹ گیا سب گھر بتول کا
حامی رہا نہیں کوئی سبطِ رسول کا اُم البنیں کا مرثیہ اس دم پڑھو حسن
آنسو بہاؤ آنکھوں سے ماتم کرو حسن گھر فاطمہ کا لٹ گیا روکر کہو حسن پرسہ دو ماں کا حضرتِ عباس کو حسن ام البنیں کے غم میں سبھی سوگوار ہیں مرقد میں اپنے پھر سے علی بے قرار ہیں